.

حماس کے رہ نما نے ایرانی سپورٹ کا پول کھول دیا

سپورٹ سے متعلق ایرانی دعوے جھوٹے ہیں، موسی ابو مرزوق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی مزاحمتی تحریک "حماس" کے سیاسی بیورو کے نائب موسیٰ ابو مرزوق نے ایران کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس امر کی یکسر تردید کردی ہے کہ تہران حکومت حماس کو بالخصوص 2009ء سے کسی قسم کی سپورٹ پیش کر رہی ہے۔ عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کے مطابق یہ انکشاف حال ہی میں افشا ہونے والی ایک ریکارڈنگ میں سامنے آیا ہے، جس میں حماس کے رہ نما کسی شخص کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں۔

ریکارڈنگ کے آغاز میں ابو مرزوق نے ایران – روس تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "یہ بات درست ہے کہ اس وقت وہ روس کے ساتھ معاہدوں اور اتحاد کی کوشش کررہے ہیں، یہ سب ایرانیوں کی مکاری ہے اور ہم اس مکاری کا شکار ہیں"۔

حماس کی سپورٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ "کہانی اس طرح نہیں ہے جس طرح وہ بیان کرتے ہیں، یہ لوگ سب سے زیادہ الفاظ سے کھیلنے والے ہیں، تقریبا 2009ء سے ان کی طرف سے کوئی چیز نہیں پہنچی ہے۔ وہ جو کچھ بھی دعوے کرتے ہیں وہ جھوٹ ہے، ہمارے پیاروں کو جو کچھ بھی پہنچا وہ ان (ایران) کی جانب سے نہیں تھا۔ خطے کی صورت حال کی وجہ سے ایک دوست فریق اور دیگر فریقوں کی جانب سے تھوڑا حصہ ملا اور یہ سب انسانی کوششوں سے... اس سلسلے میں انہوں (ایران) نے کچھ نہیں پیش کیا اور وہ جو کچھ کہتے ہیں سب جھوٹ ہے"۔

ابو مرزوق نے واضح کیا کہ سپورٹ کے لیے ایران نے یہ شرط رکھی تھی کہ حماس اپنی مداخلت کے ذریعے تہران حکومت کے سوڈان اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنائے۔

غزہ میں حماس کے لیے بحری جہازوں کے بھیجنے کے حوالے سے ایرانی غلط بیانی کو واضح کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ " 2011ء سے ہمارے پاس آنے والا ہر بحری جہاز ان سے کھو جاتا ہے۔ ایک جہاز جو نائجیریا میں لاپتہ ہوگیا اس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ آپ لوگوں پاس جا رہا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ کیا ہم پھونک مار دیتے ہیں جو جہاز راستہ بھول جاتا ہے یا پھر پکڑا جانے والا ہی ہر جہاز ہمارے لیے بھیجا گیا ہوتا ہے"۔

یمن میں ایرانی مداخلت کے بارے میں ابو مرزوق کا کہنا تھا کہ " اپنے مخفی امور اور لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے کے طریقہ کار کی وجہ سے انہوں نے اللہ کے بندوں کو ہلاک کر ڈالا"۔

"حماس" کے ذرائع نے افشا ہوجانے والی اس ریکارڈنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے "الشرق الاوسط" اخبار کو بتایا کہ یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ ایران نے شام کے بحران کے وقت سے ہی اختلافات کے سبب حماس کی سپورٹ روک دی تھی۔ البتہ ماضی میں بعض مرتبہ اس نے تحریک کے عسکری ونگ کو محدود پیمانے پر سپورٹ پیش کی تھی، مگر وہ بھی کوئی بڑی یا مستقل بنیادوں پر نہیں تھی۔

ان ذرائع کے مطابق حزب اللہ نے حماس اور ایران کے درمیان اختلافات حل کرنے کے لیے ثالثی بننے کی بہت کوشش کی اور ابھی تک کر رہی ہے، تاہم یہ بات واضح ہے کہ اختلافات اور خلیج ابھی تک بہت گہرے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ایران کی کثیر شرائط ہیں جن میں وہ متعدد سیاسی معاملات اور نقطہ ہائے نظر میں حماس سے اعلانیہ اظہار کا مطالبہ کرتا ہے۔

"الشرق الاوسط" اخبار ایران اور حماس کے درمیان حزب اللہ کی نئی وساطت کاری کے آغاز کے متعلق خبر شائع کرچکا ہے۔ یہ کوشش ایران کی جانب سے حماس کو اپنے سعودی عرب مخالف موقف کی تائید پر قائل کرنے میں ناکامی کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایران نے اپنے موقف کی تائید کے بدلے میں تعلقات کی بحالی اور مکمل مالی سپورٹ کی پیش کش کی تھی۔

حزب اللہ کے نائب سربراہ نعیم قاسم نے "حماس" کے سیاسی بیورو کے رکن موسى ابو مرزوق کو لبنان کے دورے کی دعوت دی تھی۔ اس کا مقصد سینئر ایرانی اہل کاروں سے ملاقات کرانا تھا، جن میں پاسداران انقلاب کے وہ افسران بھی شامل ہیں جو شام میں جاری کارروائیوں کے حوالے سے حزب اللہ کے ساتھ تعاون کے لیے مستقل طور پر بیروت میں موجود ہیں۔