.

اسدی فوج کا محاصرہ، معضمیۃ الشام میں دوائیں نہ ملنے سے ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع قصبے معضمية الشام میں گذشتہ ماہ ادویہ اور مناسب طبی نگہداشت نہ ہونے کی وجہ سے آٹھ افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

اس قصبے پر باغیوں کا قبضہ ہے مگر شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے اس کا گذشتہ تین سال سے محاصرہ کررکھا ہے جس کی وجہ سے اس کے مکینوں کو خوراک اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت کا سامنا ہے۔اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور(او سی ایچ اے) نے اطلاع دی ہے کہ معضمية الشام میں انسانی صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔

رابطہ دفتر کا کہنا ہے کہ دسمبر کے بعد سے قصبے کی ناکا بندی مزید سخت کردی گئی ہے اور وقفے وقفے سے گولہ باری کی جارہی ہے۔ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ پہلے سے خراب صورت حال مزید ابتر ہوسکتی ہے۔قصبے میں خوراک اور دوسری اشیاء کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔

اس نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ معضمية الشام میں یکم جنوری کے بعد سے مناسب طبی سہولتیں مہیا نہ ہونے کی وجہ سے آٹھ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ان میں چند ایک بچے بھی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق قصبے میں نومبر 2012ء سے برقی رو معطل ہے۔لوگ آگ تاپنے کے لیے پلاسٹک جلاتے ہیں اور اس وجہ سے بھی صحت کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔

او سی ایچ اے کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی نے جنوری میں شامی حکومت سے دو مرتبہ قصبے تک رسائی دینے کی درخواست کی تھی لیکن اس کے بعد سے اس کو داخلے کی منظوری نہیں ملی ہے۔

اس قصبے کا شامی فوج نے 2012ء سے محاصرہ کررکھا ہے۔2014ء میں شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان ایک ڈیل کے بعد صورت حال قدرے بہتر ہوئی تھی اور شہریوں کو نقل وحرکت کی آزادی اور مقامی انجمن ہلال احمر کو بریڈ تقسیم کی اجازت دی گئی تھی۔اس کے بعد 2015ء میں بعض عالمی ایجنسیوں نے اس قصبے میں امدادی سامان مہیا کیا تھا۔

یادرہے کہ اگست 2013ء میں معضمية الشام پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔انسانی حقوق کے کارکنان اور عالمی برادری نے شامی فوج پر اس حملے کا الزام عاید کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق شام میں اس وقت 486700 افراد محاصرے کا شکار ہیں۔شامی حکومت کی وفادار فوج کی ناکا بندی کے نتیجے میں بیسیوں لوگ بھوک اور مناسب طبی سہولتیں مہیا نہ ہونے کی وجہ سے موت کے مُنھ میں جاچکے ہیں۔شامی فوج کے محاصرے میں ایک اور قصبے مضایا میں چھیالیس افراد قحط کی وجہ سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر بشارالاسد کی حکومت گذشتہ پانچ سال سے اپنے خلاف مسلح عوامی تحریک کے دوران باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے بھوک مسلط کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور وہ اپنی شرائط پران علاقوں تک خوراک مہیا کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

ماضی میں باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں سے بھوک کا شکار ہونے والے شامی بڑی تعداد میں حکومت کے کنٹرول والے علاقوں کی جانب نقل مکانی کرتے رہے ہیں۔شامی حزب اختلاف نے اسد حکومت پر باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں خوراک اور اشیائے ضروریہ کو پہنچنے سے روکنے کا الزام عاید کیا ہے لیکن اقوام متحدہ کی دستاویزات کے مطابق اسد رجیم تنہا وہاں خوراک کی عدم تقسیم کی ذمے دار نہیں ہے بلکہ باغیوں کے درمیان باہمی لڑائیوں کے نتیجے میں بھی ان کے زیر قبضہ علاقوں میں عالمی اداروں کی جانب سے خوراک کی تقسیم کا عمل متاثر ہوا تھا۔