.

اقوام متحدہ ایلچی کی پہلے شامی اپوزیشن سے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام شامی بحران کے حل کے لیے مذاکرات کے شیڈول میں تبدیلی کی گئی ہے اور آج سوموار کو عالمی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا کی اسد حکومت کے نمائندوں سے ہونے والی ملاقات کو مؤخر کردیا گیا ہے۔وہ پہلے شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی سے بات چیت کررہے ہیں۔

اسٹافن ڈی مستورا کی ترجمان خولہ مطر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ حزب اختلاف سے پہلے ملاقات کی ضرورت تھی۔اس لیے اب حکومت کے نمائندوں سے کسی اور دن ملاقات ہوگی۔

حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی (ایچ این سی ) اور عالمی ایلچی کے درمیان مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے (1600 جی ایم ٹی) جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں ملاقات ہونے والی تھی۔اس سے پہلے اتوار کو ایچ این سی نے جنیوا میں ایک ہوٹل میں ڈی مستورا سے غیررسمی بات چیت کی تھی۔وہ نومبر میں ویانا میں عالمی طاقتوں کے درمیان طے شدہ روڈ میپ کے مطابق اسد حکومت کے نمائندوں کے ساتھ بالواسطہ بات چیت سے متردد ہے۔

ایچ این سی کے ترجمان سالم مصلاط نے ڈی مستورا سے ملاقات سے قبل نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد 2254کے تحت اپنے لوگوں کو ریلیف دلانے کے لیے جنیوا آئے ہیں۔اس قرارداد پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے اور اس کے تحت متاثرین تک انسانی امداد بہم پہنچائی جائے ،محاصرہ زدہ علاقوں کی ناکا بندی ختم کی جائے اور شہریوں پر حملے بند کیے جائیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم شامی شہریوں کے مصائب ومشکلات کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کریں گے''۔انھوں نے گذشتہ روز جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''وہ ایسے سیاسی عمل کا آغاز چاہتے ہیں جو انتخابات اور ملک میں تمام طبقوں کی نمائندہ حکومت کے قیام پر منتج ہو''۔

ایچ این سی نے اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد پر زور دیا ہے۔اس میں تمام فریقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ متاثرہ شامیوں تک انسانی امداد بہم پہنچانے کی اجازت دیں،اپنے اپنے زیر حراست قیدیوں کو رہا کردیں۔محاصرے ختم کریں اور شہریوں کو ہدف بنانے کا سلسلہ بند کردیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات میں شرکت کے لیے کوئی پیشگی شرط تو نہیں تھی لیکن اس قرار داد پر عمل درآمد کرانا سلامتی کونسل کے ارکان کی ذمے داری تھی۔