.

تین اسرائیلیوں پر عیسائی مخالف نعرے لکھنے کا مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پراسیکیوٹرز تین یہودی نوجوانوں پر بیت المقدس میں مسیحیوں کے سب سے مقدس مقامات پر توہین آ٘میز نعرے لکھنے کے الزام کے تحت مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

ان میں سے دو افراد پر 16 جنوری کو ویا دولوروسا پر تعصبانہ نعرے لکھنے کا الزام ہے۔ ویا دولوروسا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جگہ ہے جہاں پر حضرت عیسیٰ کو صلیب پر لٹکانے کے لئے لایا گیا۔ اس کارروائی کے بعد باقی دو افراد نے ایک تیسرے نوجوان سے مل کر دیر رقاد کی دیوار پر نعرے لکھا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں روایات کے مطابق حضرت مریم نے وفات پائی تھی۔

اسرائیلی وزارت انصاف کے مطابق عبرانی زبان میں لکھے جانے والے ان نعروں میں "عیسائی جہنم میں جائیں" اور "اسرائیل کے کافر دشمن عیسائیوں کو موت آئے" جیسے نعرے درج تھے۔

15 اور 16 افراد کے ان نوجوانوں 20 جنوری کو حراست میں لیا اور ان پر نابالغوں کی عدالت میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ بیان مِں مزید بتایا گیا کہ ان افراد پر الزام ہے کہ وہ مسیحیوں کے عقیدے اور جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ویٹیکن کی جانب سے بیت المقدس میں مسیحیوں کے مقدس مقامات کے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کو قوم پرست اور قدامت پسند یہودیوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔