.

صنف نازک ’’داعش‘‘ کا جنگی ہتھیار!

خواتین کے ذریعے ’آن لائن‘ جنگجو بھرتی کرنے کی مہمات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اورعراق سمیت دوسرے ممالک میں دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائیوں میں ملوث دہشت گرد گروپ دولت اسلامی’’داعش‘‘ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے صنف نازک کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

میڈٰیا رپورٹس کے مطابق ایک جانب داعش خواتین کے سخت پردے کے قائل ہے اور دوسری جانب انہیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتی۔

سعودی عرب میں حال ہی میں الاحساء شہر کی ایک جامع مسجد میں دہشت گردی کی کارروائی نے پچھلے سال بہاء کے مقام پر ایمرجنسی سروسز کی مسجد میں دہشت گردی میں ملوث عبیر الحربی نامی داعشی دوشیزہ کے کردار کی یاد تازہ کر دی ہے۔ الاحساء کی مسجد میں دہشت گردی کے لیے بھی خواتین کے استعمال کیے جانے کا شبہ ہے۔

دہشت گرد تنظیم کے امور پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ داعش جیسے گروپ فریب کار اور دغاباز ہیں جو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے خواتین سے کوئی بھی کام لے سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوانوں کو داعش کی جانب متوجہ کرنے کے لیے بھی تنظیم نے صنف نازک کا استعمال کیا اور یہ سلسلہ آج بھی ’’آن لائن جہاد‘‘ کے نام سے جاری و ساری ہے۔ اس کے علاوہ جنگجوؤں کو لاجسٹک سپورٹ مہیا کرنے اور براہ راست عسکری کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے بھی داعش نے خواتین کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔