.

’دہشت گردی کے مقاصد کے لیے خواتین استعمال ہو رہیں ہیں‘

خواتین کی شناخت کے لیے فنگر پرنٹس استعمال کریں گے: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے دہشت گردی کے مذموم مقاصد کے لیے خواتین کے استعمال کی روک تھام کے لیے چیکنگ کا نظام مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈوں اور سفری راہداریوں پر مرد و زن کی شناخت کے لیے ان کے فنگر پرنٹس لیے جائیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے کہا کہ تمام سیکیورٹی اداروں کو ہوائی اڈوں اور سفری راہداریوں سے گذرنے والے مردوں اور خواتین کی تلاشی لینے اور ان کے فنگر پرننٹس چیک کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں منصور الترکی کا کہنا تھا کہ خواتین کی تلاشی اور شناخت معلوم کرنے کے لیے لیڈیز اہلکاروں سے مدد لی جائے گی۔

میجر جنرل الترکی کا کہنا تھا کہ اندرون ملک اہم مقامات پر چیکنگ کے دوران خواتین اور مردوں کے شناختی کارڈز کی چیکنگ کو سخت کیا جائے گا۔ بیرون ملک سفر کرنے والے مردو خواتین کے فنگر پرنٹس لیے جائیں گے۔ خواتین کی شناخت معلوم کرنے کے لیے خواتین سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔

قبل ازیں ریاض میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میجنر جنرل منصور الترکی کا کہنا تھ کہ دہشت گرد تنظیمیں اور انتہا پسند گروپ فنڈز ریزنگ اور دھماکہ خیز مواد ایک سے دوسرے مقام پر منتقل کرنے کے لیے خواتین کو استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو دہشت گردی کے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ عبیر الحربی نامی ایک خاتون شدت پسند نے اپنے شوہر کے ہمراہ پچھلے سال ایک خود کش جیکٹ ریاض سے عسیر پہنچائی تھی۔ خاتون نے خود کش جیکٹ کو گاڑی میں اپنے پاؤں تلے چھپا رکھا تھا۔

یہ خود کش جیکٹ یوسف السلیمان نامی خود کش بمبار تک پہنچائی گئی تھی۔ شدت پسند بمبار نے جیکٹ پہن کر کارروائی کرنے سے قبل ریاض میں اپنی آڈیو اور ویڈیو وصیت بھی ریکارڈ کرائی جسے بعد ازاں انٹرنیٹ پر پوسٹ کیا گیا۔عبیر الحربی اور اس کے شوہر فہد فلاح الحربی کو پچھلے سال دسمبر میں سعودی سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے لیا تھا۔ یہ دونوں سعید الشھرانی نامی شخص کے زیرقیادت قائم کردہ خفیہ سیل سے وابستہ تھے۔

فہد الحربی نے خود کش بمبار کو ریاض سے عسیر پہنچانے میں مدد کی بعد ازاں فہد الحربی اور اس کی اہلیہ عبیر الحربی نے اپنی گڑی میں بمبار تک خود کش جیکٹ پہنچائی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں منصور الترکی نے کہا کہ عبیر الحربی سے تفتیش جاری ہے، ضروری نہیں کہ اس نے گمراہ نظریات اپنائے ہیں۔ تفتیش کے نتائج جلد سامنے آجائیں گے مگر یہ بھی ممکن ہے کہ عبیر کو لاعلمی میں رکھا گیا۔