.

قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے والی خواتین پر حوثیوں کا تشدد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باغیوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے شہریوں کی رہائی کے لیے مظاہرے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب حوثی باغیوں نے اپنے پیروں کی رہائی کے لیے احتجاجی جلوس نکالنے والی خواتین اور بچوں پر وحشیانہ تشدد کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوموار کو دارالحکومت صنعاء میں خواتین نے ایک احتجاجی جلوس نکالا۔ انہوں نے صنعاء کی ایک جیل میں قید سیکڑوں اپنے پیاروں کی رہائی کے لیے شدید نعرے بازی کی۔

مشرقی صنعاء میں قائم ’’ھبرہ ریزرو‘‘ جیل کے سامنے جمع خواتین اور بچوں نے اپنے ہاتھوں میں اپنے جیل میں پابند سلاسل اپنے پیاروں کی تصاویر اور ان کی رہائی کے مطالبات پر مبنی پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔

اس موقع پر ایک عینی شاہد نے بتایا کہ حوثی باغیوں نے اپنے عزیزوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے والی خواتین پر یلغار کر دی، ان کے ہاتھوں میں موجود کتبے ان سے چھین کر پھاڑ ڈالے۔ خواتین کو گالیاں دینے کے ساتھ احتجاج جاری رکھنے پر گرفتار کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

خیال رہے کہ ’’ھبرہ ریزرو‘‘ نامی جیل میں 450 یمنی شہریوں کو قید کیا گیا ہے۔ محروسین پر دوران حراست ہولناک جسمانی اور نفسیاتی تشدد کیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سامنے آنےوالے تازہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کے قبضے میں اب بھی 10ہزار افراد قید ہیں۔ ان میں سماجی اور سیاسی کارکن، صحافی اور دیگر عام شہری شام ہیں ۔

رپورٹس کے مطابق حوثیوں کے زیرانتظام کئی عقوبت خانے قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں صعدہ شہر میں باغیوں نے 90 جیلیں بنا رکھی ہیں۔حجہ اور عمران شہروں میں 20 سے زائد قید خانے ہیں۔