.

معزول یمنی صدر نے عالمی پابندیوں کو کس طرح لپیٹ دیا؟

علی عبداللہ اور بیٹوں کی 3 براعظموں تک پھیلی سرمایہ کاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں بین الاقوامی پابندیوں کی کمیٹی نے معزول صدر علی عبداللہ صالح اور ان کے بیٹے احمد کے زیرانتظام دو مالیاتی نیٹ ورکس کا انکشاف کیا ہے جن کو ان دونوں شخصیات پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان نیٹ ورک کے زیرانتظام اثاثوں کی مالیت 5 کروڑ ڈالر ہے۔

کمیٹی نے آمدنی کے ان ذرائع کا بھی پتہ چلایا ہے جن کو معزول صدر اور حوثی ملیشیاؤں کی جانب سے یمن میں اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی پابندیوں کی کمیٹی کے زیرانتظام ٹیم نے اس امر کو بھی ثابت کیا ہے کہ عمان کے ساحلوں پر بادبانی کشتی میں پکڑا جانے والا اسلحہ جس میں ایرانی ساخت کے میزائل شامل ہیں، حوثی ملیشیاؤں کے قبضے میں موجود اسلحے سے ملتا جلتا ہے۔

کمیٹی نے سلامتی کونسل میں اس مالیاتی نیٹ ورک کے حجم سے متعلق رپورٹ پیش کی ہے جس کو معزول صدر علی عبداللہ صالح اور ان کا بیٹا چلا رہے ہیں۔ صدر صالح نے اس نیٹ ورک میں شامل کمپنیوں کے اثاثوں اور جمع شدہ رقم کو خود پر بین الاقوامی پابندیاں عائد ہونے کے بعد سے اپنے بیٹے خالد کو منتقل کردیا تھا۔ اس نیٹ ورک کی مالی رقوم اور اثاثے 3 براعظموں اور متعدد ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں، جن میں کینیڈا، فرانس، ہالینڈ اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

رقوم کو اپنے بیٹے خالد کے ہاتھوں میں منتقل کردینا

یمن پر پابندیوں سے متعلق کمیٹی کئی ماہ کی تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ 2014 میں جب سلامتی کونسل نے علی عبداللہ صالح پر پابندیاں عائد کیں تو انہوں نے اپنی تمام تر رقوم کو اپنے بیٹے خالد کے نام کھاتوں اور سکوک بانڈز میں منتقل کردیا، تاکہ وہ شمالی امریکا، یورپ، جنوب مشرقی ایشیا، جزائر غرب الہند اور مشرق وسطیٰ میں صدر صالح کے زیرانتظام کمپنیوں کو ملکیت میں لے کر ان کا انتظام چلا سکے۔

روزنامہ الحیات کے مطابق اس مالیاتی نیٹ ورک میں مالی ٹرانزیکشنز، کمپنیاں اور انفرادی طور پر شخصیات شامل ہیں۔ تاہم ذیل میں دیے گئے 9 بنیادی اداروں میں اس کا احاطہ کیا جاسکتا ہے :

Pact Trust; New World Trust Corporation; NWT Services Limited (formerly NWT Nominees Limited); Albula Limited; Weisen Limited; Foxford Management Limited; NWT Directors Limited; NWT Management SA; and CT Management

کمیٹی کو اس بات کے بھی شواہد ملے ہیں کہ دو بینکوں نے (جن کے نام صیغہ راز میں رکھنے کے معاہدے کے تحت کمیٹی نے نہیں بتائے) مذکورہ اداروں میں تین مرکزی کمپنیوں کے زیرانتظام کھاتوں کو منجمد کردیا تھا۔ منجمد کھاتوں کے اثاثے بالترتیب 44 ہزار ڈالر، 40 لاکھ ڈالر اور 35 ہزار سوئس فرینک پر مشتمل تھے۔

کمیٹی کے پیش کردہ تحقیقاتی نتائج کے مطابق " 23 اکتوبر 2014 کو علی عبداللہ صالح اور ان کے خاندان کے زیرانتظام دو کمپنیوں Albula Limited اور Weisen Limitedکے تمام حصص اور جمع شدہ رقوم کو، بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے صدر صالح کے ایک بیٹے خالد علی عبداللہ صالح کے نام منتقل کردیا گیا"۔

کمیٹی کو حاصل معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ خالد صالح نے "مذکورہ دونوں کمپنیوں کے ذریعے 7 لاکھ 35 ہزار یورو اور 3 کروڑ 35 لاکھ ڈالر منتقل کرنے کی ٹرانزیکشنز کیں"۔

کمیٹی کے سامنے یہ انکشاف بھی آیا کہ علی عبداللہ صالح کی قائم کی گئی کمپنی

New World Trust Corporation جو Pact Trust کمپنی کی متولی بھی ہے، 1977 میں کینیڈا کے شہر سینٹ جون میں رجسٹرڈ ہوئی۔ اس کی متولی ایک نئی کمپنی

NWT Service Limited ہے جو اس کے انتظامی امور چلا رہی ہے۔ اس کے علاوہ

NWT Service Limited خود بھی 3 یورپی کمپنیوں کا انتظام چلا رہی ہے جو جنیوا میں اس کے صدر دفتر کے پتے کی ہی حامل ہیں۔

کمیٹی کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ علی عبداللہ صالح نے اکتوبر 2014 میں جنوب مشرقی ایشیا میں First Gulf Bank میں اپنے بیٹے خالد کے کھاتے میں 7لاکھ 35 ہزار یورو اور 3 کروڑ 35 لاکھ ڈالر منتقل کیے۔ مزید برآں خالد صالح نے دونوں رقوم کو ایک دوسرے ملک میں اپنے اسی بینک کے کھاتے میں منتقل کیا اور ایشیا میں اپنا کھاتہ بند کرا دیا۔

معزول صدر اور ان کے بیٹوں کی سرمایہ کاری برطانیہ تک

معزول صدر علی عبداللہ صالح نے اپنی کمپنیوں کے ذریعے، جن کی جمع شدہ رقوم ان کے بیٹے خالد کو منتقل کردی گئی تھیں، بہاماس کے علاقے نساؤ میں 2012ء سے رجسٹریشن نمبر

125174-B کے ساتھ سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اکتوبر 2014 میں معزول صدر اور ان کے احمد علی عبداللہ صالح پر بین الاقوامی پابندیاں عائد ہونے کی تاریخ تک برطانوی جزائر Virgin، جزائر Turks اور جزائر Taikos میں احمد علی عبداللہ کے نام پر سرمایہ کاری کا اندراج ہوتا رہے۔

احمد علی عبداللہ صالح فرانس اور ہالینڈ میں دو کمپنیوں کو چلا رہا ہے۔ یہ دو کمپنیاں اپنی ملکیت میں پیرس میں دو اپارٹمنٹس رکھتی ہیں۔ ان میں سے ایک کو 2008 میں 31 لاکھ 15 ہزار یورو جب کہ دوسرے کو 2010 میں 65 لاکھ ڈالر میں خریدا گیا۔

کمیٹی کے مطابق 9 دیگر کمپنیاں ہیں جو مذکورہ دونوں کمپنیوں میں حصص رکھتی ہیں تاہم ان نو کمپنیوں کے نام نہیں بتائے گئے۔

کمیٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ فرانسیسی حکام نے "ان اثاثوں اور جائدادوں کو کڑی نگرانی میں رکھا ہوا ہے"۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سال 2014 میں علی عبداللہ صالح پر بین الاقوامی پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان پابندیوں کے تحت اور یمن اور دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں براہ راست یا بالواسطہ کسی طور بھی اپنی رقوم اور اثاثوں کا استعمال نہیں کرسکتے ہیں۔ قرار داد نمبر 2140 کے تحت ان پر کسی بھی ملک کا سفر کرنے یا وہاں سے گزرنے پر بھی پابندی ہے۔