.

حلب پاسداران انقلاب کا قبرستان بن گیا، مزید 11 ہلاک

چند ایام میں حلب میں ہلاک ایرانی فوجیوں کی تعداد 20 ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شہر حلب میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سینیر افسر اور مذہبی مبلغ سمیت کم سے گیارہ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ شہر ایرانی فوجیوں کا قبرستان ثابت ہوا ہے۔ پچھلے چند ایام میں ہونے والی لڑائی میں یہاں کم سے کم گیارہ ایرانی فوجی بشارالاسد پر اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تازہ ہلاکتیں حلب میں ’باشکوی أ حردتنین‘‘ کے محاذ پرہوئیں جہاں ایک سینیر فوجی افسر اور ان کا ایک شیعہ مبلغ بھی مارا گیا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں شام میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت محمود اسکندری ، نری مسیائی، حسن رزاقی، حبیب رحیمی منش، مصطفیٰ خلیلی، مجید نان آور، احمد حاجی، ند الیاسی، محسن کولابادی، سعید علی زادہ، حامد کوجک زادہ اور احمد مجدی کے ناموں سے کی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ حلب میں ایرانی فوجیوں کی تازہ ہلاکتیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب شامی فوج اور اس کے حامی ملیشیا نے شہر کے بعض مقامات پر باغیوں کے خلاف فاتحانہ پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے۔ منگل کے روز شامی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے فضائی حملوں اور گھمسان کی زمینی کارروائی کے بعد صباح کے مقام سے باغیوں کو نکال باہر کیا ہے اور اب یہ علاقہ شامی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

شام کے بعض دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ حلب کے علقوں باشکوی ور ریتان میں میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے تاہم اطلاعات ہیں ان علاقوں پر قابض شدت پسند گروپ ’’داعش‘‘ نے ایرنی اور عراقی ملشیا کو پسپا کردیا گی ہے۔

’’اورینٹ‘‘ ٹی وی کے نامہ نگار نے بدھ کے روز بتایا کہ باشکوی اور اس کے اطراف میں لڑائی کے دوران کم سے کم 15 شیعہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں ۔ باغیوں نے حراری راکٹ حملے اور گولہ باری میں الزھراء کے علاقے میں دو ٹینک اور دو فوجی گاڑیاں تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

باشکوی کے مقام پر لڑائی ’دویر الزیتون‘، تل جبین‘ ور تزویراتی اہمیت کے حامل ’’حرتنین‘‘ قصبے پر شامی فوج کے قبضے کے بعد ہوئی ہے۔ روسی فوج نے بھی ان علاقوں پر شامی باغیوں کے ٹھکانوں پر جنگی طیاروں سے بمباری کی ہے۔