.

شامی حزبِ اختلاف کے سربراہ ریاض حجاب کی جنیوا آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے سابق وزیراعظم اور حزب اختلاف کی قومی کونسل کے سربراہ ریاض حجاب آج جنیوا پہنچنے والے ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ کی میزبانی اور ثالثی میں اسد حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں حصہ لیں گے۔

ریاض حجاب حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی (ایچ این سی) کے رابطہ کار ہیں۔ان کی آمد کو مذاکرات کے آغاز کے لیے ایک مثبت علامت سمجھا جارہا ہے کیونکہ اب تک حزب اختلاف اور صدر بشارالاسد کی حکومت کے نمائندوں کے درمیان مختلف امور پراختلافات کی وجہ سے باضابطہ طور پر مذاکرات شروع نہیں ہوسکے ہیں۔

حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی کمیٹی کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں اور یہی امر مذاکرات کے آغاز میں تاخیر کا سبب بن رہا ہے۔ایک مغربی سفارت کار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ''ریاض حجاب کی یہاں موجودگی سے ایچ این سی حزب اختلاف کی نمائندگی کرتے ہوئے یکساں اور بہتر موقف پیش کرسکتی ہے''۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام اسٹافن ڈی مستورا نے خبردار کیا ہے کہ اگر امن مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوجاتے ہیں تو شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے تمام امیدیں دم توڑ جائیں گی۔انھوں نے حزب اختلاف کے اس انتباہ کے ردعمل میں یہ بیان جاری کیا تھا کہ روس کے حالیہ فضائی حملوں سے مذاکراتی عمل پٹڑی سے اتر سکتا ہے۔

شامی حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ روس نے سوموار کی صبح سے بدھ تک 270 فضائی حملے کیے ہیں اور ماضی قریب میں اتنی شدید بمباری کی مثال نہیں ملتی ہے۔ایچ این سی کے ترجمان سالم المصلاط نے ایک بیان میں کہا کہ ''رات سے شام میں ایک بڑا قتل عام جاری ہے لیکن کوئی بھی کچھ بھی نہیں کررہا ہے۔کوئی کچھ نہیں کہہ رہا ہے۔عالمی برادری مکمل طور پر اندھی ہے''۔

اسٹافن ڈی مستورا نے سوموار کو حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان سوئٹزر لینڈ میں باضابطہ طور پر بالواسطہ بات چیت شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس امید کا اظہار کیا تھا کہ وہ 11 فروری تک کچھ نہ کچھ حاصل کرلیں گے۔

مگر منگل کے روز انھوں نے سوئس ریڈیو چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اگر اس مرتبہ بھی جنیوا میں دو سابقہ اجلاسوں کی طرح ناکامی ہوتی ہے تو پھر تنازعے کے حل کے لیے تمام امیدیں ہی دم توڑ جائیں گی''۔اس دوران شامی حکومت کے وفد کے سربراہ بشارالجعفری کا کہنا ہے کہ عالمی ایلچی نے ابھی تک مذاکرات کا ایجنڈا یا حزب اختلاف کے شرکاء کی فہرست پیش نہیں کی ہے۔

شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی نے سوموار کو ڈی مستورا سے اپنی ملاقات میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس وقت تک مذاکرات نہیں کرے گی جب تک شامی حکومت شہریوں پر بمباری کا سلسلہ بند نہیں کردیتی ،شہروں اور قصبوں کے محاصرے ختم نہیں کرتی ہے اور قیدیوں یا زیر حراست افراد کو رہا نہیں کرتی ہے۔

ادھرشام کے شمالی شہر حلب میں شامی فوج نے باغی گروپوں کے خلاف بڑی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔اس کو روس کی فضائی مدد حاصل ہے۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے منگل کے روز شامی فوج کی بمباری میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

حلب کا شمالی علاقہ اسدی فوج اور باغیوں دونوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔یہیں سے ترکی تک باغی گروپوں کا سپلائی روٹ ہے جہاں سے شہر کے باغیوں کے زیر قبضہ حصے میں سامان رسد مہیا ہوتا ہے۔یہ علاقہ حکومت کے زیر قبضہ حلب کے مغربی حصے اور شیعہ آبادی والے دو دیہات نیوبل اور الزہرا کے درمیان واقع ہے۔ان دونوں دیہات کے مکین دمشق حکومت کے وفادار ہیں۔