.

ایرانی پاسداران انقلاب کی منشیات کی تجارت ثابت!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معروف ایرانی محقق اور مصنف مجید محمدی نے اپنے ایک مضمون میں منشیات کی تجارت میں ایرانی پاسداران انقلاب کے کردار کا انکشاف کیا ہے۔ یہ مضمون فارسی زبان کی ایک اہم ویب سائٹ نے پوسٹ کیا ہے۔

ایرانی محقق نے اپنے مضمون میں کئی سوالات اٹھائے ہیں... مثلا : کیا پاسداران انقلاب کو منشیات کی تجارت کی ضرورت ہے؟ کیا پاسداران کے عقائد منشیات کی تجارت کی راہ میں حائل ہوتے ہیں؟ کیا پاسداران کے پاس اتنی لیاقت ہے جو انہیں منشیات کی تجارت کے قابل بناتی ہے؟ اور آخر میں کیا ایسے ثبوت اور شواہد موجود ہیں کہ جو اس گھناؤنی تجارت میں پاسداران کا ہاتھ ہونے کا انکشاف کرتے ہیں؟

نگرانی اور احتساب کے بغیر

انسداد منشیات کی ایرانی کمیٹی کے نائب سربراہ نے 7 جنوری 2015 کو سرکاری نیوز ایجنسی "ارنا" کو دیے گئے انٹرویو میں اس امر کی تصدیق کی تھی کہ ایران میں منشیات کی تجارت کا حجم تقریباً 3 ارب ڈالر ہے۔

ادھر محقق مجید محمدی کے مطابق، پاسداران انقلاب اور دیگر فورسز بالخصوص فیلق القدس کو ایران اور خطے میں اپنے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے بڑے مالی ذرائع کی اشد ضرورت پڑتی ہے۔ یہ ایسا پہلو ہے جس کی بنیاد پر ہمیں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ مذکورہ عناصر کا اس تجارت میں کوئی ہاتھ نہیں... خاص طور پر یہ کہ بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ایرانی حکومت کی عسکری سرگرمیوں کا اور بشار الاسد حکومت، حزب اللہ اور حوثیوں کے لیے اس کی سپورٹ کا سلسلہ نہیں رکا۔ اس امر کے باعث پاسداران انقلاب، ایرانی پارلیمنٹ کے منظور کردہ بجٹ کے علاوہ منشیات کی تجارت جیسے اضافی مالی ذرائع تلاش کرتی ہے۔

محقق نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ ملک میں اسمگلنگ کے سامان کی زیادہ تر منڈیوں پر پاسداران انقلاب اور خاص طور پر فیلق القدس کا کنٹرول ہے۔ اس کے بعد وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک ایسے ملک میں جو پوری طرح اس فوجی ادارے کے سامنے سرنگوں ہے، منشیات کی انتہائی منافع بخش تجارت سے چشم پوشی کرنا کیسے ممکن ہے... اس لیے پاسداران انقلاب کی طرف سے گرین سگنل کے بغیر اس کی آنکھوں کے سامنے اتنی آسانی سے اسمگلنگ کا ہونا ممکن نہیں۔

​شرعی رخصت کے ساتھ منشیات کی تجارت

محقق نے یہ بھی سوال پیش کیا ہے کہ جب لاطینی امریکا میں بائیں بازو کی طاقتیں اور افغانستان میں شدت پسند عسکری عناصر منشیات کا کاروبار کر سکتے ہیں تو پھر ان ہی فضاؤں میں رہنے والے شیعہ گروپوں کو کون سی چیز اس کام سے دور رکھ سکتی ہے ؟

وہ مزید لکھتے ہیں کہ " لاطینی امریکا میں بائیں بازو والوں کی جانب سے منشیات کی امریکا اسمگلنگ کا مقصد سامراجیت کو تباہ کرنا ہے۔ اس لیے یہ تو فطری بات ہے کہ ان کے شیعہ ساتھی بھی ایرانی سرزمین کے راستے افغانستان سے یورپ منشیات کی اسمگلنگ پر آنکھیں موند کر رکھیں۔ بالخصوص ایران میں تو اگر نظام کو برقرار رکھنے کا ناگزیر تقاضہ آجائے تو اس کی خاطر توحید اور نماز پر بھی عمل روک دینے کی اجازت ہے۔ ایسے میں مذہبی حلقوں سے منشیات کی تجارت کے جواز کا شرعی فتوی حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں۔ یہ بات تو ویسے بھی معروف ہے کہ مذہبی حلقے افیون کو اور اسی طرح نشہ آور صنعتی لوازمات کو حرام نہیں قرار دیتے۔

پاسداران انقلاب کے اختیارات

مضمون میں ان اختیارات اور اہلیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جو پاسداران انقلاب کے لیے منشیات کی تجارت اور کسی بھی دوسرے سامان کی اسمگلنگ کو آسان بناتے ہیں۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بندرگاہیں اور سمندری گزرگاہیں غیر سرکاری طور پر پاسداران کے قبضے میں ہیں اور یہ کسی بھی سرکاری ادارے کے زیرنگرانی نہیں، اس کے علاوہ ایرانی ہوائی اڈوں کی سیکورٹی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کو ان مقامات پر کسی بھی کام کی کھلی آزادی حاصل ہے۔ پاسداران انقلاب کی ملک کے تمام علاقوں، جامعات، اسکولوں، مساجد، امام بارگاہوں اور سرکاری دفاتر میں مخلتف شاخیں ہیں۔ اسی طرح وہ ایران میں پہاڑی علاقوں، جنگلوں، چٹیل میدانوں اور صحراؤں پر بھی مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔

ثبوت کیا ہیں ؟

مجید محمدی کے مطابق منشیات کی تجارت میں پاسداران انقلاب کے ملوث ہونے کے متعدد ثبوت اور شواہد ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایرانی اعلیٰ اہل کاروں اور پاسداران انقلاب سے علاحدہ ہو جانے والے ارکان کے بیانات کو بنیاد بنایا ہے۔

ایران کے ایک سابق اٹارنی جنرل "دری نجف آبادی" نے 2 اگست 2008 کو فارسی زبان کے اخبار "رسالت" کو دیے گئے انٹرویو میں اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ " اگر مغربی ممالک نے ایٹمی توانائی کے شعبے میں ایران کو چیلنج کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو ایران اپنی سرزمین کے ذریعے نہیں بلکہ سمندر اور دیگر پوائنٹس کے ذریعے نشہ آور لوازمات (منشیات) کے گزرنے کی اجازت دے سکتا ہے... اس لیے کہ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ کو روکیں اور لاشوں کا نذرانہ پیش کریں جب کہ افغانستان ہزاروں ہیکٹر زمین پر افیون کی خشخاش کاشت کر رہا ہے"۔

اس بیان سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت نے اپنی سرزمین کے راستے منشیات کی یورپ اسمگلنگ کی اجازت دی چوں کہ مغربی ممالک نے ایرانی ایٹمی پروگرام کو چیلنج کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ بی بی سی (فارسی سروس) نے 7 مارچ 2012 کو اپنی ایک خبر میں بتایا تھا کہ امریکی وزارت خزانہ نے پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم فیلق القدس کے ایک بڑے کمانڈر جنرل غلام رضا باغبانی کا نام منشیات کی اسمگلنگ میں شریک ہونے کے الزام میں زیرپابندی شخصیات کی فہرست میں شامل کر لیا۔

17 نومبر 2011 کو پاسداران انقلاب سے علاحدہ ہو جانے والے ایک افسر "سجاد حق پناہ" نے ٹائمز اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ منشیات کی تجارت اور اسمگلنگ ایران میں پاسداران انقلاب کی قیادت کے درمیان پھیل چکی ہیں، اور ان میں بعض کمانڈر تو براہ راست ان سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

افیون کی ہیروئن میں تبدیلی

سجاد حق پناہ کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب افغانستان سے اسمگل شدہ افیون لے کر اسے ایران میں ہیروئن اور مارفین میں تبدیل کرتی ہے۔ اس کے بعد جرائم پیشہ گینگز کی معاونت سے اسے دنیا کے مختلف حصوں میں اسمگل کرا دیتی ہے۔

حق پناہ نے جو علاحدگی سے قبل پاسداران انقلاب میں انفارمیشن سیکورٹی کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے، بتایا کہ "پاسداران انقلاب (منشیات کی اسمگلنگ کے لیے) لوجسٹک آپریشنز کے لیے (اپنی خصوصی) آمدورفت کی سمندری اور فضائی کمپنیوں سے استفادہ کرتی ہے، اس طرح اسے لا محدود اختیارات حاصل ہیں"۔

منشیات کی اسمگلنگ میں پاسداران انقلاب کے بڑھتے ہوئے کردار نے ایرانی جنرل انسپیکشن آرگنائزیشن کے سربراہ مصطفی بور محمدی کو بھی احتجاج پر مجبور کر دیا۔ محمدی نے جنوری 2013 میں روزنامہ "تجارت فردا" کو دیے گئے انٹرویو میں اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ " اس میں کوئی شک نہیں کہ منشیات کی اسمگلنگ کسی بھی شکل میں ہو وہ انسانیت کے ساتھ غداری ہے۔ اور اس میں کوئی فائدہ اور بھلائی نہیں ہے کہ ایک ادارہ (پاسداران انقلاب) ایسا کام کرے۔ جو کوئی بھی ایسا کر رہا ہے اور اس کے بارے میں سوچ رہا ہے تو بلا شک و شبہ وہ ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے اور ہم اس میں کسی قسم کی بھی بھلائی، برکت اور منفعت خیال نہیں کریں گے"۔