.

سعودی بری افواج کے سامنے حوثی ملیشاؤں کی پسپائی

یمنی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کی صنعاء کے مشرق میں پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی بری افواج کے کرنل فیحان البقمی نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیاؤں کی سرحد کے نزدیک آنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کوششوں کو پسپا کرنے سے قبل سیکورٹی سسٹم اور فضائی نگرانی کے ذریعے ملیشیاؤں کی پوزیشنوں کو معلوم کر لیا گیا تھا۔ الفحمی نے یہ بات "العربيہ" نیوز چینل کی ٹیم کے سعودی عرب اور یمن کی سرحد کے دورے کے دوران بتائی۔

دوسری جانب یمن کی قومی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے اتحادی طیاروں کی سپورٹ میں صنعاء صوبے کے مشرقی علاقوں میں اپنی پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس سے قبل ان فورسز نے نھم کے علاقے میں نقیل الفرضہ فوجی کیمپ پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا، جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے صرف 30 کلومیٹر دور ہے۔

سعودی عرب اور یمن کی مشترکہ سرحد پر جازان کے علاقے میں جاری فوجی آپریشن میں توجہ کا محور اتحادی طیاروں کی فضائی کارروائیاں ہیں، جن کو اپاچی ہیلی کاپٹروں کی معاونت حاصل ہے۔ ان کارروائیوں میں حوثی اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی ملیشیاؤں کے عسکری ٹھکانوں اور کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔

منگل کی رات سے فضائی یلغاروں کا سلسلہ زمینی کارروائیوں سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اس دوران اتحادی طیاروں نے جازان صوبے کے سامنے کے حصے میں ان غیر آباد یمنی دیہاتوں کو نشانہ بنایا جہاں ملیشیاؤں نے پناہ لے رکھی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ اپاچی ہیلی کاپٹروں نے جازان کے علاقے الحرث کے پہاڑی علاقوں کے سروے اور انہیں کلیئر کرانے کی کارروائیوں میں حصہ لیا۔