.

"ایرانی مسلح گروہ" مغربی کنارے تک پہنچ گئے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اسرائیلی صحافی نے فلسطینی سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں سیکورٹی اداروں نے گزشتہ دو ہفتوں کے اندر ایک مسلح گروہ کو گرفتار کیا ہے۔ اس گروہ نے ایرانی حکومت سے جوڑ رکھنے والی تنظیم "حرکت الصابرين" کے لیے (جو پہلے ہی غزہ میں موجود ہے) ایک اڈہ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر لی تھی۔

اسرائیلی ویب سائٹ "المصدر" نے جو عربی زبان میں مواد نشر کرتی ہے، بتایا ہے کہ فلسطینی ذمہ دار کے مطابق 5 سرگرم کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جنہیں غزہ پٹی میں تنظیم کے ارکان کی جانب سے مالی رقوم دی گئی تھیں تاکہ وہ اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں پر حملے کرسکیں۔

​واضح رہے کہ اس سے قبل غزہ کی بندرگاہ پر خمینی کی طرز کے لباس اور پگڑی میں ملبوس شخص کی تصویر نے سوشل میڈیا پر غزہ پٹی میں فلسطینی حلقوں میں برا تنازع کھڑا کر دیا تھا۔

تصویر میں نظر آنے والے شخص (جس کے گرد بعض ذاتی محافظین بھی تھے) کے بارے میں بہت سے سوالات اٹھے تھے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ شخص رفح شہر کا باشندہ محمود جودہ ہے۔ محمود جودہ کئی سال تک شدت پسند تنظیم "جماعت التکفير والهجرہ" کا سرغنہ رہا۔ تاہم متعدد فلسطینی ویب سائٹس کے مطابق اب وہ شیعیت کا سب سے زیادہ پرچار کرنے والی شخصیات میں سے ہو گیا ہے۔

محمود جودہ کو غزہ میں شیعہ تنظیم "حركت الصابرين" کی قیادت کے نزدیک سمجھا جاتا ہے۔ غزہ میں "جماعت التکفیر والہجرہ" کے سرغنے کے طور پر مشہور ہونے کے باوجود وہ 4 برس سے زیادہ عرصے سے اپنی شیعیت اور ایرانی پاسداران انقلاب کی پیروی کا برملا اظہار کر رہا ہے۔