.

عراق : آیت اللہ علی السیستانی کا ہفت وار خطبہ معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سرکردہ شیعہ عالم دین آیت اللہ علی السیستانی نے سیاسی امور سے متعلق اپنے ہفت وار خطبات معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔برسوں سے ان کے خطبات ان کے لاکھوں پیروکاروں اورعراقی سیاست دانوں کے لیے ہدایت و رہ نمائی کا ذریعہ رہے ہیں۔

انھوں نے جمعہ کے روز اپنے خطبات معطل کرنے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی ہے۔علامہ سیستانی کے معاون احمد الصافی نے جنوبی شہر کربلا سے ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ ''خطبات کو ہفت وار کی بنیاد پر جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔البتہ اب حالات کی ضرورت کے پیش نظر یہ خطبات دیے جائیں گے''۔

آیت اللہ علی السیستانی کو لاکھوں اہل تشیع کی حمایت حاصل ہے اور ان کی عزت وتکریم کا یہ عالم ہے کہ چند ایک سیاست دان ہی ان کو چیلنج کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔وہ قومی سلامتی ،انتخابات اور معیشت سے متعلق امور کو اپنی تقریروں میں موضوع بناتے رہے ہیں۔

انھوں نے جون 2014ء میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے عراق کے شمال اور شمال مغربی علاقوں پر قبضے کے بعد اپنے پیروکاروں پر زوردیا تھا کہ وہ ان کے خلاف ہتھیار اٹھا لیں۔ان کی اس اپیل پر ہزاروں اہل تشیع ہتھیار بند ہو کر داعش کے خلاف جنگ میں نکلے تھے۔

انھوں نے سابق وزیراعظم نوری المالکی کو اقتدار سے ہٹانے اور انھیں سائیڈ لائن کرنے کی بھی حمایت کی تھی اور گذشتہ سال موسم گرما میں عراق کے بدعنوانیوں کے شکار سیاسی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔اس کے بعد عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے اصلاحات کے لیے مہم شروع کی تھی لیکن آیت اللہ علی السیستانی نے ان اصلاحات کی سست روی پر تنقید کی تھی۔

انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر حقیقی اصلاحات نہیں کی جاتی ہیں تو اس کے سنگین مضمرات ہوسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ''آج اگر کرپشن کے خلاف بے رحم جنگ لڑنے کے لیے حقیقی اصلاحات نہیں کی جاتی ہیں اور سماجی انصاف مہیا نہیں کیا جاتا ہے تو حالات پہلے سے بھی زیادہ بد تر ہوسکتے ہیں اور خدا نخواستہ عراق کی تقسیم کی راہ ہموار ہوسکتی ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''اگر سکیورٹی فورسز میں کرپشن ہوتی اورنہ اعلیٰ حکام اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے تو دہشت گرد تنظیم داعش عراق کے ایک بڑے علاقے پر قبضے میں کبھی کامیاب نہ ہوسکتی تھی''۔