.

کم سن سیاہ فام داعشی جلاد کے ہاتھوں شامی امام کا سرقلم

سیاہ فام داعشی کے ہاتھوں قتل کا پہلا واقعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام وعراق میں دہشت گردی میں سرگرم تنظیم دولت اسلامی ’’داعش‘‘ میں ویسے تو بھانت بھانت کے شدت پسند شمولیت اختیار کرتے رہے ہیں مگرحال ہی میں ایک سیاہ فام مگر کم سن جلاد کو پہلی بار ایک شامی شہری کا سر قلم کرتے دکھایا گیا ہے

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق داعش کی جانب سے کم سن داعشی جنگجو کے ہاتھوں شام کے ایک مقامی پیش امام کا سرقلم کرنے کا واقعہ حال ہی میں منظر عام پرآیا۔ داعش نے اس درد ناک واقعے کی فوٹیج بنانے کے بعد انٹرنیٹ پر پوسٹ کی ہے۔ فوٹیج میں سزائے موت کے قیدیوں کے لیے مختص کردہ نارنجی رنگ کے لباس میں ملبوس امام مسجد کے سر کو جھکائے ہوئے کم سن سیاہ فام جنگجو گھنے درختوں کے بیچ چل رہا ہے۔ جہاں چند قدم کے بعد سے زمین پر پاؤں کے بل بٹھا دیا جاتا ہے۔ پھر اپنے ہاتھ میں موجود تیز دھار بھاری خنجر ہوا میں لہراتے ہوئے امریکا کو دھمکی دیتا ہے اور ساتھ ہی کہتا ہے میرا تعلق انگریزی بولنے والے ایک افریقی ملک سے ہے۔ یہ کہتے ہوئے وہ شامی عالم دین کا سرتن سے جدا کر دیتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مقتول امام مسجد کی شناخت محمد عبدالعزیز طبشو کے نام سے کی گئی ہے جو داعش کے زیرقبضہ ’’تل قراح‘‘ قصبے کی جامع مسجد کا امام اور ’’شامی محاذ‘‘ نامی تنظیم کا شرعی پراسیکیوٹر رہا ہے۔ داعشی جنگجوؤں کی جانب سے پوسٹ کردہ فوٹیج میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مقتول عبدالعزیز طبشو کو شمالی حلب کے نواحی علاقے ’’تل عزاز‘‘ سے اغوا کیا گیا تھا، جہاں داعش نے پچھلے سال اکتوبرمیں قبضہ کر لیا تھا۔

داعش نے امام مسجد کو تل عزاز پر قبضے کے چند روز بعد ہی قتل کر دیا تھا مگر اس کے قتل کی فوٹیج کل جمعرات کو انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالعزیز طبشو کو پچھلے ماہ کے آخرمیں ہلاک کیا گیا۔ 17 منٹ کو محیط فوٹیج کا بیشتر حصہ طبشو کے اعترافات پر مشتمل ہے جن میں اہم ترین اعتراف اس کا یہ دعویٰ کہ شامی محاذ، فیلق الشام، جیش المجاھدین، اور احرار شام نامی گروپوں نے امریکا اور ترکی کی معاونت سے ایک مشترکہ کنٹرول روم قائم کر رکھا ہے۔ اس فوٹیج میں اس کا یہ بھی ماننا ہے کہ وہ امریکا کے لیے داعش کی جاسوسی کرتا رہا ہے۔

اعتراف بیان میں عبدالعزیز طبشو کا کہنا ہے کہ امریکا اور ترکی کے تعاون سے شامی عسکری تنظیموں کا مشترکہ کنٹرول روم اعزاز روڈ کی مغربی سمت میں تل رفعت کے مغرب میں قائم ہے۔ اس کنٹرول روم کو ترکی اور امریکا کے کے جاسوس طیاروں کی مدد سے بھی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔

داعش کے نئے سیاہ فام جلاد کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔ بہ ظاہر اس کی عمر12 سال کے لگ بھگ معلوم ہوتی ہے۔ کم عمری کے باوجود وہ بڑے اعتماد اور پیشہ وارانہ انداز میں امریکا کو للکارتا ہے۔ امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے سیاہ فام جنگجو کہتا ہے کہ ’’یہ تمہارے ایجنٹ جنہیں تم اسلحہ مہیا کرتے اور شریعت اسلامی کے خلاف پیسہ فراہم کرتے ہو۔ ہم انہیں ایسے ہی ختم کریں گے جیسے ہم نے عراقی صحوات کو ختم کیا ہے۔ یہ لوگ دوبارہ زمین پر نزول کی ہمت نہیں کریں گے۔ اس کے بعد وہ شامی امام کا سرتن سے جدا کر دیتا ہے‘‘۔

اخبار’’ڈیلی میرر‘‘ کے مطابق سیاہ فام داعشی جلاد ابو الدرداء نامی داعشی کا بیٹا ہے۔ ابو الدرداء کو شام کے شہر کوبانی میں پچھلے سال امریکا کے ایک فضائی حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کا انداز کم سن داعشی کے برطانوی لب ولہجے میں انگریزی سے ہوتا ہے۔ اس کا والد صومالیہ سے تعلق رکھتا تھا جو برطانوی لہجے میں روانی کے ساتھ انگریزی بولتا۔ کم سن داعش جنگجو کے انگریزی لہجے میں افریق لہجے کی جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے۔