.

حلب میں 2011ء کے بعد سب سے بڑی بیدخلی

ترک سرحد بندش کی وجہ سے ہزاروں شامی پھنس گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی شہر حلب کے مضافاتی علاقوں پر روسی طیاروں کی بمباری سے بچنے کے لئے راہ فرار اختیار کرنے والے ہزاروں شامی باشندے ترکی کی سرحد پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔

جنگ کے آغاز سے ابتک شمالی شام کے علاقے میں شہریوں کی بیدخلی کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے جس کے باعث ترکی نے اپنی شام سے ملنے والی سرحد بند کر دی ہے۔

حلب کے علاقوں سے وہ نہتے شامی شہری اجتماعی بیدخلی کا شکار ہوئے ہیں جن پر شامی فوج حملے کر رہی ہے۔ نیز اس پر سونے پر سوہاگہ روسی طیاروں کی بمباری کا نیا سلسلہ ادا کر رہا ہے۔

شام سے محفوظ علاقوں میں راہ فرار اختیار کرنے والے ترکی کی سرحد پر جمع ہو رہے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد باب السلامہ کراسنگ اور اعزاز میونسپلٹی کے علاقے میں جمع ہے۔

دوسری جانب روسی بمباری میں تیزی آنے کی وجہ سے شام سے ترکی کے محفوظ علاقوں کی سمت ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، تاہم روسی بمباری میں تیزی کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بمباری کے بعد شامی فوج اور اس کی زیر انتظام ملیشیاؤں کو علاقے میں داخل کیا جا سکے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں اور اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق شمالی حلب کے مضافات سے گزشتہ سوموار سے ابتک چالیس ہزار شامی بیدخل ہو چکے ہیں۔ بیدخل ہونے والے زیادہ تر شامیوں کا تعلق عندان، حریتان، حیان اور بیانون میونسپلیٹیز سے بتایا جاتا ہے۔ یہ علاقے شامی اور روسی فوج کی وحشیانہ بمباری سے تقریباً خالی ہو چکے ہیں۔

ادھر ترکی نے شام کے ساتھ اپنی سرحد بند کر کر رکھی ہے اور پناہ گزینوں کو اپنے علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہا ہے جبکہ دوسری جانب یورپی ممالک بھی شامی مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دینے سے انکاری ہیں اور انہیں زبردستی ترکی کے علاقے میں واپس دھکیل رہے ہیں۔

اگر روسی فوج نے شام کے جنوبی محاذ بشمول درعا کی جانب بمباری میں اضافہ کیا تو اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ اردن کی سرحد کی جانب بھی شامی شہری بڑے پیمانے پر ہجرت اختیار کریں۔