.

یمن: تعز میں باغیوں کے اسلحہ ڈپو پر اتحادی فضائی بمباری

شہر کو مکمل طور پر آزاد کرانے کے لیے صفوں کی ترتیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب اتحادی افواج کے طیاروں نے ہفتے کے روز تعز شہر میں حوثی اور معزول صدر علی صالح کی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ حملوں کے دوران شہر کے مشرقی حصے میں ریپبلکن گارڈز کے بریگیڈ 22 کو، شہر کے مغرب میں آرمرڈ بریگیڈ 35 کے ہیڈکوارٹر کو اور اسلحے کے ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے بعد اسلحے کے ڈپو میں ہتھیاروں کے دھماکوں کی زور دار آوازیں سنی گئیں۔

تعز میں یمنی فوج کے آرمرڈ بریگیڈ 35 کے کمانڈر بریگیڈیئرعدنان الحمادی نے بتایا کہ عوامی مزاحمت کاروں کی قیادت اور قومی فوج تعز کو مکمل طور پر آزاد کرانے کا مرحلہ شروع کرنے کے لیے اپنی صفوں کو ترتیب دے رہی ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ تعز کا محاصرہ ختم کرانے اور اس کو آزاد کرانے کے لیے وضع کردہ پلان صدر ہادی اور اتحادی افواج کی قیادت کے سامنے پیش کردیا گیا ہے۔

اسی دوران تعز صوبے کے وسط میں المسراخ کے علاقے میں شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں قومی فوج اور عوامی مزاحمت کار علاقے کے مرکزی محور پر سخت حملے کررہے ہیں۔

ان جھڑپوں میں مختلف نوعیت کے چھوٹے اور درمیانی ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جب کہ مسلح ملیشیاؤں کی جانب سے المسراخ پر مارٹر گولے داغے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں کم از کم دس شہری زخمی ہوگئے۔