.

فلسطینی حکومت قومی اتحاد کے لیے دستبردار ہونے کو تیار

حماس اور فتح کے درمیان مصالحت اور قومی اتحاد کی حکومت کے لیے مذاکرات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غرب اردن میں قائم فلسطینی حکومت نے تمام دھڑوں پر مشتمل قومی اتحاد کی نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے دستبردار ہونے کا عندیہ دیا ہے جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح اور اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے درمیان مصالحت کے لیے نئی کوششیں کی جارہی ہیں۔

غربِ اردن کے شہر رام اللہ میں قائم فلسطینی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق''وزیراعظم رامی حمداللہ قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل کی حمایت کے لیے مستعفی ہونے کو تیار ہیں اور وہ حقیقی مصالحت کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کو بھی تیار ہیں''۔

قبل ازیں سنہ 2014ء میں حماس اور فتح کے درمیان مصالحتی سمجھوتا طے پایا تھا اور اس کے تحت رامی حمداللہ کی قیادت میں آزاد ٹیکنوکریٹس پر مشتمل قومی اتحاد کی حکومت تشکیل پائی تھی لیکن حماس نے غزہ کی پٹی میں اپنی عمل داری مسلسل برقرار رکھی ہے اور یہ حکومت وہاں اپنے قدم نہیں جما سکی ہے۔

اب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس اور فتح کے درمیان گذشتہ دو روز تک بات چیت کے بعد قومی حکومت نے ''رضامندی سے مستعفی ہونے کے اعلامیے'' کا اعلان کیا ہے لیکن یہ پہلا موقع نہیں کہ رامی حمداللہ کی حکومت نے اس طرح مستعفی ہونے کی پیش کش کی ہے۔

درایں اثناء حماس نے کہا ہے کہ وہ پیشگی شرائط کے بغیر قومی اتحاد کی نئی حکومت بنانے کو تیار ہے۔اس نے اس نئی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ موجودہ تمام مسائل کا حل تلاش کرے۔

حماس نے فتح پر اپنے پچاس ہزار ملازمین کی تن خواہوں کو باضابطہ بنانے کے عمل میں رکاوٹیں حائل کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔حماس نے غزہ میں 2007ء میں اپنی حکومت کے قیام کے بعد ان ملازمین کو بھرتی کیا تھا جبکہ فتح حماس پر ایک متوازی حکومت قائم کرنے کا الزام عاید کرتی رہی ہے اور اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ غزہ کی سرحدوں کے انتظام سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہوئی۔

یادرہے کہ وزیراعظم رامی حمداللہ نے گذشتہ سال بھی صدر محمود عباس کو اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا۔تب فلسطینی حکام کا کہنا تھا کہ ٹیکنوکریٹس پر مشتمل اس کابینہ کو تحلیل کرنے پر گذشتہ کئی ماہ سے غور کیا جارہا تھا کیونکہ یہ حکومت غزہ کی پٹی میں فعال نہیں ہوسکی تھی۔رامی حمداللہ کی قیادت میں قومی اتحاد کی یہ حکومت 2014ء میں تشکیل پائی تھی اور اس کا بڑا مقصد فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح اور اس کی سیاسی حریف حماس کے درمیان اختلافات کا خاتمہ کرنا تھا۔