.

یمن کی آگ 'دی ایڈریس ہوٹل' کی آتشزدگی کی طرح بجھائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر داخلہ الشیخ سیف بن زاید آل نہیان نے یمن میں آئینی حکومت کے خلاف بغاوت کو نئے سال کی آمد کے موقع پر دبئی کے 'دی ایڈریس ہوٹل' میں لگنے والی آگ سے تشبیہہ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ" اگر ہم اس وقت آگ بجھانے میں دیر کر دیتے تو وہ قریبی عمارتوں تک پھیل جاتی، اسی طرح اگر ہم برادر ملک یمن میں قانونی حکومت کو واپس لانے میں دیر کردیتے تو یہ بغاوت پورے جزیرہ عرب میں پھیل جاتی"۔

دبئی میں عالمی حکومتی اجلاس کے مرکزی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سیف بن زاید کا کہنا تھا کہ جس طرح سال ِ نو کی رات دی ایڈریس ہوٹل (دبئی) میں لگی آگ کو بجھا کر ملحقہ علاقوں میں پھیلنے سے روک دیا گیا تھا... اسی طرح ہم یمن کی آگ کو ٹھنڈا کر دیں گے اور خلیج کے خطے کا امن اور استحکام برقرار رکھیں گے۔

انہوں نے باور کرایا کہ "ہماری ریاست کی سیاسی قیادت کی حکمت اور سعودی عرب کے زیرقیادت عرب اتحادی فوج میں ہمارے بیٹوں اور بھائیوں کے عزم سے یمن ایک مرتبہ پھر امن و مسرت کا گہوار بنے گا"۔

دبئی کے ہوٹل کی آگ کے حوالے سے اماراتی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ " سال ِ نو کی رات دی ایڈریس ہوٹل میں لگنے والی آگ کی مثال اسی نوعیت کے ہر حادثے کی طرح ہے... امارات سال 2003ء سے اس طرح کی آتش زدگی کے لیے تیاری کر چکا ہے، تاہم آگ بجھانے کے لیے فوری جوابی اقدام بھی ایک بڑا نقصان شمار کیا جائے گا، ایسے حادثات کے واقع ہونے سے پہلے ہی ان سے نمٹ لینا چاہیے"۔