.

ایران میں پانچ کارکنوں کو سرعام پھانسی دینے کا اعلان

انسانی حقوق کے اداروں نے سزاؤں کو ظالمانہ قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے جوڈیشل حکام نے ملک کے عرب اکثریتی صوبہ اہواز سے تعلق رکھنے ولے پانچ سیاسی اور سماجی کارکنوں کو بھرے مجمع میں پھانسی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جن کارکنوں کو تختہ دار پرلٹکانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ان کی شناخت قیس عبیداوی، حمود عبیداوی، محمد حلفی، مہدی معربی اور مہدی سیاحی کے ناموں سے کی گئی ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی’’فارس‘‘ نے صوبہ اھواز کے چیف جسٹس فرھاد افشارنیا کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ عدالتوں سے سزا پانے والے پانچ مذکورہ کارکنوں کو جلد ہی پھانسی کی سزا دی جائے گی۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی مقامی اور عالمی تنظیموں بالخصوص صوبہ اھواز میں سرگرم گروپوں نے اپنے بیانات میں سزائے موت کےتازہ ایرانی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں غیرانسانی سزائیں قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پھانسی کے سزا یافتہ کارکنوں کو ایرانی پولیس نے اپریل 2015ء کو الحمیدیہ شہر سے حراست میں لیا تھا۔ دوران حراست ایرانی انٹیلی جنس اداروں کے تفتیش کاروں نے تشدد کے ذریعے ان سےمن مانے اعترافات جرم کرائے اور پریس ٹی وی پرانہیں پیش کرکے ان کے خلاف انہیں خود ساختہ جرائم کا اعتراف کرایا گیا۔

اھواز میں کام کرنے والے انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ جن پانچ کارکنوں کو پھانسی کی سزائیں دینے کا اعلان کیا گیا ہے ان پر پانچ سال قبل ایک ایرانی انٹیلی جنس کو قتل کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ اسی جرم میں چار دوسرے شہریوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے ایک کو عمرقید اور جلا وطنی جب کہ دو کو بیس بیس سال قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔