.

سعودی عرب کا عمرہ پالیسی مزید سخت کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حکومت نے ملکی، علاقائی اور عالمی حالات کے پیش نظراندرون اور بیرون ملک عمرہ ویزے کے قواعد وضوبط میں تبدیلی لانے اور نئی عمرہ پالیسی وضع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وزارت حج نے بیرون ملک قائم سعودی سفارت خانوں کے ذریعے جاری ہونے والے ویزوں کے طریقہ کار میں تبدیلی اور نئے ضوابط وضع کرنا شروع کردیے ہیں۔ نئی عمرہ ویزہ پالیسی کی تفصیلات جلد ہی منظر عام پرلائی جائیں گی۔

خیال رہے کہ سعودی حکومت کی جانب سےعمرہ ویزی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ایک ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب پچھلے اسلامی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں بیرون ملک موجود سعوی سفارت خانوں سے 55 لاکھ عمرہ ویزے جاری کیے گئے ہیں۔

سعودی اخبار’’الحیاۃ‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وزارت حج نے نئی عمرہ پالیسی اور حج ویزوں کے بارے میں طریقہ کار میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ نئی شرائط میں یہ بات شامل ہے متعلقہ فضائی کمپنیاں ویزہ سروسز کے لیے مقامی حکومتوں کی جانب سے منظورشدہ ہوں اور ان کے پاس ’ایاٹا‘[IATA] کی رکنیت ہو۔ نیزانہوں نے سعودی عرب کے بنکوں سے انشورنس کرا رکھی ہو۔

سعودی حکومت ایسی کسی فضائی کمپنی کو عمرہ اور حج مسافروں کو لانے کا ’’پرمٹ‘‘ جاری نہیں کرے گی جو انتظامی وجوہات اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سمیت کسی بھی وجہ سے سعودی عرب کی جانب سے متنازع قرار دی گئی ہو۔ نئی عمرہ پالیسی میں وزارت خارجہ کو کسی بھی عمرہ مسافر یا وزٹ ویزے پرآنے والے شخص کے مملکت میں قیام کی مدت کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

عمرہ ویزہ یا وزٹ ویزہ کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی واپس نہ جانے والوں کے خلاف بھی سخت انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں وزارت داخلہ کو مزید اختیارات بھی دیئے گئے ہیں۔