.

شہزادہ سلمان کی انسان دوستی، خاتون ہم وطن مصنوعی موت سے بچ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج میں حکمراں خاندانوں کی شخصیات کی جانب سے انسان اور عوام دوستی سے متعلق واقعات اکثر منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔ اسی جذبے کی تازہ ترین مثال سعودی نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے سامنے آئی ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی جمع کردہ تفصیلات کے مطابق سعودی خاتون شہری بسمہ سند الخمشی العنزی اور اس کا شوہر ہانی مطر العنزی دونوں اسکالر شپ پر امریکی ریاست اوریگون کے شہر پورٹ لینڈ میں مقیم ہیں۔ بسمہ العنزی دمے کے شدید حملے کی وجہ سے شہر کے ایک ہسپتال میں زیرعلاج تھی۔ 13 روز کے بعد ہسپتال کے حکام نے مریضہ کو "دماغی طور" پر مردہ قرار دے کر زندگی بچانے والی مشین سے علاحدہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تاکہ "مصنوعی موت" کے ذریعے سرکاری طور پر بسمہ کی موت کا اعلان کیا جا سکے۔ سعودی خاتون کے شوہر ہانی نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا۔ جواب میں ہسپتال حکام نے ہانی کو صرف تین روز کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ اس دوران اپنی بیوی کو کسی دوسری جگہ منتقل کر دے بصورت دیگر اس کو زبردستی مشین سے ہٹا دیا جائے گا۔

انتہائی مختصر مہلت ملنے کی وجہ سے ہانی العنزی نے واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے کے ذریعے وزارت خارجہ کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ اس کی بیوی کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ ہانی العنزی کے مطابق نجی کمپنیوں نے اس کی بیوی کو سعودی عرب منتقل کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر کا معاوضہ طلب کیا تھا۔ تاہم گزشتہ ایام میں علاج کے تمام تر اخراجات اکیلے برداشت کرنے کی وجہ سے ہانی اتنی بڑی رقم کی ادائیگی کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ ذرائع کے مطابق ہانی نے اپنی بیوی کی جان بچانے کے لیے حتی الامکان کوشش کی مگر اس حوالے سے امریکا کے سخت قوانین اس کی راہ میں حائل ہو گئے۔

منگل کے روز ہسپتال حکام کی جانب سے دی گئی مہلت ختم ہورہی تھی۔ مہلت کے اختتام سے چند گھنٹے قبل سعودی وزارت صحت کے ترجمان فیصل الزہرانی کی جانب سے ہانی العنزی کو وہ مژدہ سنایا گیا جس نے اس کی بیوی سے قبل خود ہانی کے اندر جان ڈال دی۔ الزہرانی کے مطابق سعودی نائب ولی عہد نے معاملے کی سنگینی کو دیکھ کر فوری مداخلت کرتے ہوئے یہ ہدایت کی کہ سعودی خاتون شہری کو ہنگامی طور پر سعودی طیارے کے ذریعے حائل کے "کنگ خالد ہسپتال" منتقل کیا جائے۔ اس سلسلے میں امریکا میں ہی مقیم ہانی کے بھائی بدر العنزی نے بتایا کہ اس کے بھائی کی بیوی کو منتقل کرنے کے تمام تر انتظامات مکمل ہو چکے ہیں اور اسے بدھ کے روز سعودی عرب پہنچا دیا جائے گا۔

سعودی نائب ولی عہد کے ہنگامی مداخلت کے بعد مریضہ اور اس کے شوہر کے تمام متعلقین نے بھی سکھ کا سانس لیا... یہ تمام افراد ممکنہ مصنوعی موت کے نتیجے میں حرکت قلب روک دیے جانے پر بسمہ کی زندگی سے ناامید ہو چکے تھے جس کو پہلے ہی دماغی طور پر مردہ قرار دیا گیا تھا۔

ہانی العنزی نے اس موقع پر شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے انسان اور عوام دوست ہونے کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے ہانی کی مریضہ بیوی مملکت منتقل کرنے میں غیر معمولی تیزی کا مظاہرہ کیا۔ سعودی شہری نے شہزادہ محمد کو "عظیم ہیرو" قرار دیا کیوں کہ (اللہ کی رحمت سے) ان کی بروقت مداخلت نے اس کی بیوی کو مصنوعی موت کے منہ میں جانے سے بچا لیا۔ واضح رہے کہ 7 برسوں سے دمے کے مرض میں مبتلا سعودی خاتون شہری بسمہ العنزی دو بچوں کی ماں ہے۔