.

لبنان کو ایران کا صوبہ نہیں بننے دیں گے: سعد الحریری

حزب اللہ نے قومی مفاد کے خلاف لبنان کو علاقائی جنگوں میں دھکیلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سابق وزیراعظم اور فیوچر موومنٹ کے سربراہ سعد الحریری نے اپنے والد رفیق الحریری(سابق وزیراعظم) کی ہلاکت کے 11 سال مکمل ہونے پر بیروت میں ہونے والی خصوصی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی شرکت کے ذریعے "مارچ 14 الائنس" میں شامل سیاسی جماعتوں کے بعض روٹھے ہوئے رہ نماؤں کو جمع کرنے اور ان کے درمیان ہم آہنگی بحال کرنے کی کوشش کی۔

سعد الحریری نے اپنی تقریر میں گزشتہ 21 ماہ کے دوران لبنان کو درپیش صورت حال کا وسیع جائزہ پیش کیا جس میں صدارتی خلاء نمایاں ترین ہے۔ انہوں نے نام لیے بغیر حزب اللہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور لبنان میں حالیہ بحرانوں اور صدارتی خلاء کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ سابق وزیراعظم کے نزدیک اس جماعت نے صدارتی بحران کے حل کے لیے کی جانے والی تمام تر کوششوں کو مسترد کر دیا کیوں کہ وہ لبنان میں صدر کا ہونا نہیں چاہتی اور اپنے اکلوتے صدارتی امیدوار کو ترجیح دیتی ہے، اور وہ امیدوار ہے "خلاء"۔

سعد الحریری نے حزب اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "شام کی سرپرستی لبنان سے بڑی مصنوعی شخصیات نہیں تیار کرسکی اور ایران کی رہ نمائی بھی اس وطن سے بڑے افراد تیار نہیں کرسکے گی"۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ لبنان میں کوئی داخلی فریق "ہتھیار اور دہشت گردی کے ذریعے جمہوریت پر شب خون مارنے میں کامیاب نہیں ہو گا"۔

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل (حسن نصر اللہ) کا نام لیے بغیر سعد الحریری ان تمام عناصر سے براہ راست مخاطب ہوئے "جنہوں نے اپنے سیاسی اور فرقہ وارانہ مفادات کی خاطر ملک کے مستقبل کو معلق کیا ہوا ہے"۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ "ایسے وقت میں جب کہ ملک صدارتی خلاء سے دوچار ہے کسی کو بھی سیاسی عیاشی کی اجازت نہیں دی جائے گی"۔ ان کے خیال میں حسن نصر اللہ نے "غلط نعروں کے تحت غلط جگہوں پر لڑنے کا فیصلہ کیا"۔

حزب اللہ جو کچھ کررہی ہے اس کا جواب دیتے ہوئے سعد الحریری نے باور کرایا کہ "مارچ 14 الائنس" میں شامل تمام تر سیاسی طاقتیں حزب اللہ اور ایران کے منصوبے کو یکسر مسترد کرتی ہیں۔ اس اتحاد کا کہنا ہے کہ " ہم سب سے پہلے عرب ہیں اور ہم کسی کو ہر گز یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ لبنان کو سعودی عرب اور اس کے برادر عربوں کی دشمنی کی بساط میں گھسیٹے"۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ لبنان "کسی صورت بھی ایران کی بالادستی میں نہیں ہو گا"۔

حزب اللہ کی جانب سے لبنانی صدارت کو خطے کی پیش رفت سے جوڑنے کے منصوبے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سعد الحریری کا کہنا تھا کہ "لبنانی صدارت شام، عراق یا یمن کی صدارت کی کوششوں سے مقدم ہے ... اور (لبنانی) صدارت کا محاصرہ توڑنا مضایا اور شام کے دیگر شہروں کے محاصرے میں شریک ہونے سے مقدم ہے"۔

سعد الحریری نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ صدارتی بحران کے حوالے سے "مارچ 14 الائنس" کے مذاکرات اس مفاہمت پر ختم ہوئے تھے کہ مارچ 8 الائنس کی جانب سے آمادگی کی صورت میں سابق صدر امین الجمیل کو بطور امیدوار نامزد کیا جائے گا۔ تاہم اس کوشش کو حزب اللہ کی جانب سے ناکام بنایا گیا یا بنوایا گیا جو "صرف ایک امیدوارکی نامزدگی چاہتی ہے اور دوسروں کو اس کے انتخاب پر مجبور کر رہی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "فری پیٹریاٹک موومنٹ" کے رہ نما میشیل عون کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں موجودہ حکومت تشکیل پائی تاہم "اس بات چیت میں ہماری طرف سے ان کو صدارتی امیدوار نامزد کرنے کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی"۔

سعد الحریری نے باور کرایا کہ فیوچر موومنٹ اور مارچ 14 الائنس کا منصوبہ ایک "قومی منصوبہ ... اور لبنان کو کسی طور بھی شام، عراق اور یمن کی خونریزی میں ملوث نہیں ہونے دیا گیا"۔ یہ لبنان کے لیے ہر اس طاقت کے مدمقابل قوت کا نقطہ ثابت ہوا ہے جو لبنان کو ایرانی منصوبوں میں جھونکنا چاہتی ہے۔

سعد الحریری نے حزب اللہ اور لبنان میں آئینی عمل کو معطل کرنے والے تمام عناصر کو چیلنج دیا کہ وہ "پارلیمنٹ میں آ کر جمہوریہ کے صدر کے انتخاب میں شریک ہو"، جو ان کے نزدیک "جمہوری طریقہ کار" ہے۔

سابق وزیراعظم نے باور کرایا کہ فیوچر موومنٹ جمہوری عمل کی پابند ہے اور وہ اس عمل کی معطلی کے سائے میں پناہ نہیں لے گی جس طرح دوسرے لوگ کررہے ہیں۔ حزب اللہ کے اس دعوے کے جواب میں کہ بائیکاٹ "جمہوری حق" ہے ... سعد الحریری نے زور دے کر کہا کہ "کسی بھی فریق کو یہ حق نہیں کہ وہ ہم سے اس بات کا مطالبہ کرے کہ ہم جمہوری عمل کے خلاف جا کر اس کے نامزد امیدوار کے صدارت کی کرسی تک پہنچنے کا راستہ آسان کریں"۔​

الحریری کے مطابق اس وقت صدارت کے تین امیدوار موجود ہیں۔ وہ سليمان فرنجيہ، میشیل عون اور ہنری حلو ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ "ہمیں چاہیے کہ پارلیمنٹ میں آئیں اور ملک کے صدر کا انتخاب کریں ... تاہم جہاں تک ہم سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ایک امیدوار کو قبول کریں تو یہ نہیں ہو سکتا"۔