.

شام: اسپتال پر بمباری روس نے کی یا امریکا نے؟!

شامی حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے متضاد بیانات اور الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں گذشتہ روز ادلب شہر میں انسانی حقوق کی تنظیم ’’ڈاکٹرز ود آؤٹ باؤنڈریز‘‘ کے اسپتال پر بمباری کے بعد بشارالاسد کی حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے بمباری کا الزام ایک دوسرے پر عاید کیا جا رہا ہے۔ شامی حکومت نے الزام عاید کیا ہے کہ بمباری امریکا کے جنگی طیاروں نے کی جب کہ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اسپتال پر روسی فوجی طیاروں نے بم گرائے۔

دوسری جانب طبی امدادی دارے کا کہنا ہے کہ اس کے قائم کردہ اسپتال پر ایک منظم منصوبے کے تحت حملہ کیا گیا اور اس میں روسی فوج اور اسد رجیم ملوث ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی اپوزیشن کے ذریعے اور شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے الزام عاید کیا ہے کہ ادلب میں معرہ النعمان کے مقام پر روس نے حملہ کیا۔ شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے’’آبزرویٹری برائے انسانی حقوق‘‘ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ روسی جنگی طیاروں نے ادلب کے جنوبی علاقے معرہ النعمان میں قائم ’’ڈاکٹرز ود آؤٹ باؤنڈریز‘‘ کے قائم کردہ اسپتال پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم نو افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔

ادھر روس میں متعین شامی حکومت کے سفیر ریاض حداد نے کہا ہے کہ طبی امدادی ادارے کے قائم کردہ اسپتال پرامریکا کی سربراہی میں قائم کردہ فوجی اتحاد نے بمباری کی ہے اور روس کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

قبل ازیں‘ڈاکٹرز ود آؤٹ باؤنڈریز‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گی تھا کہ معرہ النعمان کے مقام پر قائم کردہ اسپتال پر جنگی طیاروں کی بمباری سے کم سے کم سات افراد مارے گئے ہیں جن میں پانچ مریض اور ایک سیکیورٹی گارڈ شامل ہیں۔ بمباری سے اسپتال کا ایک حصہ مکمل طور پر ملبے کے ڈھیرمیں تبدیل ہو گیا ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں نے معرہ النعمان کے اسپتال پر بمباری کے نتیجے میں نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ مہلوکین میں ایک نرس اور ایک بچہ بھی شامل ہیں جب کہ دسیوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ روسی فوج کے جنگی طیاروں سے کیا گیا جس میں میزائل استعمال کیے گئے ہیں۔

چار میزائل حملے

ڈاکٹرز ود آوٹ باؤنڈریز کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس کے قائم کردہ اسپتال پر چند منٹ کے وفقے سے چار میزائل حملے کیے گئے۔ بمباری میں اسپتال کے قریب 15 رہائش گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

تنظیم کے چیئرمین ’ماسیمیلیانو ریبنودینگوان‘ نے بتایاکہ معمرہ النعمان کےمقام پر قائم کردہ ان کے اسپتال پر بمباری ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی گئی جس میں دانستہ طورپر طبی عملے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میزائل حملوں سے اسپتال مکمل طورپر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں معرہ النعمان اور اس کے قرب وجوار کی چالیس ہزار نفوس پر مشتمل آبادی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

طبی ادارے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تباہ ہونے والے اسپتال میں 30 بیڈ، 54 ملازم، دو آپریشنز تھیٹر، ایک ایمرجنسی وارڈ قائم تھا اور اسپتال سے مریضوں اور زخمیوں کو مفت ادویات فراہم کی جاتی تھیں۔

خیال رہے کہ شام میں اطباء بلاحدود کے اسپتالوں پر بمباری کا یہ پہلا کیس نہیں۔ اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ رواں ماہ نو فروری کو درعا شہر میں طفس قصبے میں قائم اسپتال پر بمباری میں نو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔

تنظیم نے شام میں مجموعی طورپر 153 اسپتال اور طبی مراکز قائم کر رکھے ہیں۔ گذشتہ برس ستمبر سے روس نے شام میں فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا تو یہ دعویٰ کیا گیا ہے ماسکو داعش کے خلاف جنگ میں شریک ہے مگرحقیقت اس کے برعکس رہی ہے۔ روسی فوج کی جانب سے شام می اعتدال پسند فورسز کے ٹھکانوں کو زیادہ نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جس کے باعث روس کی شام میں مداخلت پر کئی سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں شام میں روسی فوج کی انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام بھی عاید کر چکی ہیں۔