.

بھوک ہڑتالی فلسطینی اسرائیلی اسپتال ہی میں رہے گا

اسرائیلی عدالت عظمیٰ نے قیدی کو رام اللہ منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی عدالت عظمیٰ نے بھوک ہڑتال کرنے والے ایک فلسطینی صحافی کو اسرائیلی اسپتال ہی میں رکھنے کا حکم دیا ہے اور ان کی رام اللہ منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

تینتیس سالہ صحافی محمد القیق نے گذشتہ چوراسی روز سے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔کچھ نہ کھانے کی وجہ سے وہ قریب المرگ ہیں۔ان کے وکیل جواد بولوس نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ عدالت نے ان کی رہائی اور اسرائیل میں واقع عفولا اسپتال سے باہر منتقل کرنے کی اجازت دینے سے متعلق درخواست مسترد کردی ہے۔

محمد القیق نے اپنی غیر قانونی حراست کے خلاف بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔اس دوران وہ کبھی کبھار ہی وٹامنز اور منرلز لیتے رہے ہیں اور صرف پانی کے سہارے زندہ ہیں۔عدالت نے 4 فروری کو ان کے خلاف کسی قانونی جواز کے بغیر انتظامی حراست میں رکھنے کے حکم کو معطل کردیا تھا لیکن انھیں مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے تحت اسپتال میں منتقل کرنے سے انکار کردیا تھا۔

اسرائیلی عدالت نے سوموار کو انھیں مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کے زیر انتظام مقصد اسپتال میں منتقل کرنے کی پیش کش کی تھی لیکن اسرائیلی پارلیمان کے ایک سابق رکن عفو اجباریہ نے بتایا ہے کہ قیق نے یہ پیش کش مسترد کردی ہے۔

انھوں نے اسیر فلسطینی سے ملاقات کے بعد بتایا ہے کہ ''قیق نے مقصد اسپتال میں منتقل ہونے سے انکار کردیا ہے کیونکہ یہ اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے میں آتا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ انھیں اسرائیلی حراست ہی میں رکھا جائے''۔

قیق کا کہنا ہے کہ:'' اب موت یا آزادی ہوگی۔اگر اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے پاس میرے خلاف کچھ ہے تو وہ مجھے انصاف کے کٹہرے میں لائیں اور مجھے انتظامی حراست یا کسی ٹرائل کے بغیر بند تو نہ رکھیں''۔

قیق دو بچوں کے باپ ہیں اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے المجد ٹی وی نیٹ ورک کے نمائندے ہیں۔ انھیں 21 نومبر2015ء کو رام اللہ سے ان کے گھر سے حماس سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

فلسطین کی انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق انھوں نے تفتیش کے دوران خود پر اسرائیلی فورسز کے تشدد اور ناروا سلوک کے خلاف 25 نومبر سے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔اقوام متحدہ ان کی حالت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرچکی ہے اور بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان کی حالت تشویش ناک ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی انتداب کے دور (1920ء سے 1948ء تک) کے ایک متنازعہ قانون کے تحت اسرائیلی حکام فلسطینی قیدیوں کو غیر معینہ مدت کے لیے جیل میں ڈال سکتے ہیں اور اس مدت میں عدالتی حکم کے تحت ہر چھے ماہ کے بعد توسیع کی جا سکتی ہے۔