.

شام: جنوبی علاقوں میں حالیہ لڑائی کے بعد 50 ہزار بے گھر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے جنوبی علاقوں میں صدر بشار الاسد کی وفادار فوج اور باغی گروپوں کے درمیان لڑائی میں شدت کے بعد مزید قریباً پچاس شامی شہری بے گھر ہوگئے ہیں۔

اس وقت عالمی برادری کی توجہ شام کے شمالی علاقوں میں جاری لڑائی پر مرکوز ہے جہاں اسدی فوج حلب شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں ایک بڑی کارروائی کررہی ہے اور روس کے لڑکا طیارے اس کی مدد میں باغیوں اور شہریوں پر فضائی حملے کررہے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں شامی اپنا گھر بار چھوڑ کر ترکی کی سرحد کی جانب چلے گئے ہیں۔

پڑوسی ملک اردن میں اقوام متحدہ کے انسانی رابطہ کار ایڈورڈ کالون نے بتایا ہے کہ گذشتہ پندرھواڑے کے دوران سرحد پار اضافی امدادی قافلوں کا بندو بست کیا گیا ہے اور تیس ہزار سے زیادہ شہریوں کو سردیوں کے کپڑے اور بنیادی شیلٹر مہیا کیے گئے ہیں۔ان میں سات ہزار سے زیادہ بچے تھے۔

اردن کی سرحد کے نزدیک شام کے جنوبی شہر درعا پر صدر بشارالاسد کی حکومت کا کنٹرول برقرار ہے جبکہ اسی نام کے صوبے کے دوسرے علاقوں میں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان شدید لڑائی ہورہی ہے۔

اس کے پڑوس میں واقع سویدہ میں،جہاں شام کی دروز اقلیت آباد ہے،ملک کے دوسرے حصوں کی نسبت کم لڑائی دیکھنے کو ملی ہے۔حالانکہ داعش کے جنگجوؤں نے اس علاقے میں بھی حملے کیے تھے اور وہاں اپنی عمل داری قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے دفتر کے مطابق اس وقت اردن میں چھے لاکھ تیس ہزار سے زیادہ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں۔اردن کی حکومت اپنے ہاں مقیم مہاجرین کی تعداد چودہ لاکھ بتاتی ہے کیونکہ ان میں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے ناموں کا اندراج مہاجر کے طور پر نہیں کرایا ہے۔شام میں گذشتہ پانچ سال سے جاری لڑائی کے نتیجے میں چھیالیس لاکھ بے گھر ہوئے ہیں۔ان میں نصف سے زیادہ بیرون ممالک میں پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔