.

شہریوں کے قتل کا جواز، شامی حکومت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کہتے ہیں کہ "عذر گناہ بدتر از گناہ" ... شام کے ہسپتالوں میں بے قصور شہریوں کے قتل کا جواز پیش کرتے ہوئے بشار الاسد کی حکومت بھی اسی مقولے کا مصداق بن چکی ہے۔ اقوام متحدہ میں شام کے سفیر بشار الجعفری نے فرانس کی غیرسرکاری تنظیم Doctors Without Borders کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ تنظیم فرانسیسی انٹیلجنس کے لیے کام کر رہی ہے۔ منگل کے روز الجعفری کا یہ بیان شام کے شمال میں واقع ادلب میں "معرة النعمان" کے علاقے میں ایک ہسپتال پر مبینہ روسی فضائی حملے میں کم از کم 11 افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔

بشار الجعفری کا کہنا ہے کہ "یہ ہسپتال شامی حکومت کے ساتھ کسی بھی پیشگی مشورے کے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نامی فرانسیسی نیٹ ورک کی جانب سے قائم کیا گیا جو شام میں کام کرنے والی فرانسیسی انٹیلجنس کی ایک شاخ ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "جو چکھ ہوا اس کی تمام تر ذمہ داری ان ہی پر عائد ہوتی ہے کیوں کہ انہوں نے شامی حکومت سے مشاورت نہیں کی تھی ... یہ تنظیم شامی حکومت کی اجازت کے بغیر کام کر رہی ہے"۔

شامی سفیر نے ایک مرتبہ پھر امریکا کے زیرقیادت داعش کے خلاف برسرجنگ بین الاقوامی اتحاد پر الزام لگایا کہ اس نے مذکورہ ہسپتال کو نشانہ بنایا۔ اس سے قبل واشنگٹن نے ماسکو حکومت کو حملے کے پیچھے ہونے کے حوالے سے مورود الزام ٹھہرایا تھا۔

اس کے مقابل اقوام متحدہ میں فرانسیسی سفیر نے بشار الجعفری کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کو"نفرت انگیز" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بیان سے "ایک مرتبہ پھر شامی حکومت کا اصلی چہرہ بے نقاب ہو گیا"۔

شامی سفیر نے یہ بیان سلامتی کونسل کے اس اجلاس کے بعد جاری کیا جو روس نے ترکی کی جانب سے گولہ باری پر بحث کے لیے بلایا تھا، اس گولہ باری کے ذریعے شام کے شمال میں کرد جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔