.

موصل : داعش نے 15 سالہ عراقی کا سرتن سے جدا کردیا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گرد تنظیم "داعش" نے انسانی حقوق بالخصوص بچوں کے خلاف وحشی پن اور بربریت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اپنی تازہ کارروائی میں تنظیم نے عراق کے صوبے نینویٰ کے شمالی شہر موصل میں ایک 15 سالہ لڑکے کا گلا چاقو سے کاٹنے کے بعد اس کی سربریدہ لاش اہل خانہ کے حوالے کردی۔

فیس بک پر "نینویٰ میڈیا پرسنز" کے سرکاری صفحے پر بتایا گیا ہے کہ "احتسابی کمیٹی نے مذکورہ لڑکے کو تقریبا 20 روز پہلے موصل شہر کے النبی یونس بازار سے گرفتار کیا تھا۔ کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ اس لڑکے نے اپنے لیپ ٹاپ میں گانے اور مخرب الاخلاق تصاویر کو محفوظ کیا ہوا تھا"۔

نیٹ ورک کے مطابق "تنظیم نے پیر کے روز اس بچے کی لاش کو سربریدہ حالت میں اس کے گھروالوں کے حوالے کیا۔ لڑکے کے ایک عزیز کا کہنا ہے کہ تدفین کے وقت اس کا جسم خون سے خالی تھا کیوں کہ تنظیم نے لڑکے کو قتل کرنے کے بعد جسم سے خون کا آخری قطرہ بہہ جانے تک بعد اس کو زمین پر ڈالے رکھا تھا"۔

"نینویٰ میڈیا پرسنز" کے مطابق مقتول لڑکے کا والد موصل کے النبی یونس بازار میں ایک دکان چلاتا ہے اور وہ تنظیم کی جانب سے اس وحشیانہ طریقے سے اپنے بیٹے کے قتل پر شدید صدمے سے دوچار ہے۔