.

یمنی صدر کا حوثیوں کے خفیہ معاہدے اور حزب اللہ کے خط کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی صدر عبدربه منصور هادی نے ایک مرتبہ پھر ایران پر حوثی ملیشیاؤں کی فنڈنگ کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے یہ الزام منگل کی شب انقرہ میں اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردوگان کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں دہرایا۔ اس موقع پر اپنے ملک میں ایران کی حالیہ مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے یمنی صدر نے باور کرایا کہ ایران کے لیے اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ وہ ملیشیاؤں کو مالی رقوم اور اسلحہ فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یمنی حکام نے اپنی جیلوں میں ایرانی پاسداران انقلاب اور لبنان کی حزب اللہ کی ملیشیاؤں کے ارکان کو قید میں رکھا ہوا تھا۔

ہادی نے انکشاف کیا کہ انہیں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کا ایک خط موصول ہوا جس سے یمن میں باغی ملیشیاؤں کی سپورٹ اور فتنہ بھڑکانے میں حزب اللہ کے ملوث ہونے کی ایک بار پھر تصدیق ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حسن نصراللہ نے خط میں یہ بات پہنچائی کہ "یمن میں برسرجنگ ہمارے ارکان لوگوں کو ریاست کاری سکھانے آئے ہیں !"۔ اس سے ایک بار پھر ملک میں دہشت گردوں کے باہمی تعلق کا کے شواہد ملتے ہیں۔

ہادی نے حوثیوں اور معزول صدر صالح کے درمیان ایک خفیہ معاہدے کا بھی انکشاف کیا۔ انقرہ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ "حوثیوں کا سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے ساتھ اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ عبدالملک الحوثی ان کا مذہبی پیشوا اور "أحمد بن عبدالله صالح" (معزول یمنی صدر کا بیٹا) سیاسی پیشوا ہوگا۔ مزید یہ کہ یہ لوگ لامحدود مدت تک یمن پر حکمرانی کریں گے، تاہم یمنی عوام نے اس کو مسترد کردیا جس پر حوثیوں نے بغاوت کرڈالی"۔

ہادی کے مطابق ماضی میں یمن میں زیدیوں اور شافعیوں کے درمیان کوئی مسئلہ دیکھنے میں نہیں آیا تاوقت کہ حوثی جنہوں نے ایران میں تعلیم حاصل کی تھی وہ لوٹ کر آئے اور انہوں نے ایرانی تجربے کو یمن منتقل کرنے کا ارادہ کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ "حوثیوں کو بتا دیا گیا تھا کہ ایرانی تجربہ یمن میں ہرگز کامیاب نہیں ہوگا۔ اس گروہ کے ساتھ ایک سال تک بات چیت کی گئی جس کے دوران یمن کو 60 برسوں سے درپیش تمام مسائل پیش کیے گئے اور حوثیوں نے 11 متنازعہ نکات بھی پیش کیے ... تاہم ان نقصان پہنچانے والے نکات پر صرف ملک کو خانہ جنگی سے بچانے کے لیے آمادہ ہوا گیا"۔

ہادی نے زور دے کر کہا کہ حوثی جو صعدہ صوبے کی 4 لاکھ 70 ہزار کی آبادی کا 10 فی صد ہیں، وہ اسلحے کے زور پر 2 کروڑ 60 لاکھ یمنیوں پر ایرانی تجربہ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ حوثیوں نے نو ماہ سے "تعز" شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہ اس میں دوائیں اور کھانے پینے کی اشیاء کو داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ صدر ہادی نے واضح کیا کہ اس وقت یمن کا 80 فی صد سے زیادہ رقبہ "آئینی حکومت" کے زیرکنٹرول ہے جب کہ صرف 20 فی صد پر حوثیوں کا قبضہ ہے۔

یمنی صدر نے بتایا کہ "ملک میں 15 سے 28 سال کی عمر کے تقریبا 60 لاکھ نوجوان ہیں جن میں یونی ورسٹی اور دیگر اداروں سے فارغ التحصیل 7 لاکھ بے روزگار بھی ہیں۔ اس چیز نے ان میں بعض نوجوانوں کو القاعدہ میں شمولیت یا منشیات اور یا پھر خودکشی کی طرف راغب کیا"۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے حالات نے ملک میں سیاحوں کی آمد اور تیل کی پیداوار روک دی ہے۔ اس کے نتیجے میں تیل کی 36 کمپنیاں ملک سے جاچکی ہیں۔