.

شام میں حزب اللہ کی 'خفیہ جیلیں' جہاں بشار بھی بے بس!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں حزب اختلاف کی متعدد ویب سائٹوں کی رپورٹوں کے مطابق لبنانی تنظیم حزب اللہ نے شام کی سرزمین پر خفیہ عقوبت خانے اور قیدخانے بنا رکھے ہیں، جو حکومت کے مخالفین اور ملک میں حزب اللہ کے وجود پر اعتراض کرنے والوں پر تشدد کے لیے مخصوص ہیں۔

ایسا نظر آتا ہے کہ حزب اللہ کی ملیشیاؤں نے بشار الاسد حکومت کی جانب سے حاصل رسوخ کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے، وہ بھی ایک ایسے بدحال ملک میں جہاں کے عوام بھوک اور بمباری کے مارے ہوئے ہیں۔ حزب اختلاف کی ویب سائٹ السوریہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حزب اللہ نے شام کے مختلف علاقوں بالخصوص حمص کے اور دمشق کے نواحی دیہی علاقوں میں جہاں اس کا بڑا اثرورسوخ ہے، اپنے ذاتی قیدخانے بنائے ہوئے ہیں۔

یہ بات مشہور ہے کہ تنظیم کی خفیہ جیلوں میں سے اہم ترین دمشق کے نواحی دیہی علاقے السیدہ زینب میں، القنیطرہ کے الامل فارمز میں اور درعا صوبے کے شہر الصنمین میں موجود ہیں۔

جہاں تک حزب اللہ کی بدنام ترین جیل کا تعلق ہے تو وہ تل کلخ کے علاقے میں ہے جس کو بعض لوگ "الثقب الأصفر" اور دیگر کچھ لوگ "سجن الحزب" کا نام دیتے ہیں۔

تنظیم کی ملیشیاؤں نے اس کو اور دیگر جیلوں کو بشار الاسد حکومت کے مخالفین اور شامی سر زمین پر حزب اللہ کے وجود پر اعتراض کرنے والوں پر تشدد کے لیے مخصوص کیا ہوا ہے۔

ویب سائٹ پر جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ ان قیدخانوں کا خطرناک ترین پہلو یہ ہے کہ جو اس میں ایک بار داخل ہوجائے وہ لاپتہ شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں پر قید افراد کی رہائی کے سلسلے میں ملیشیاؤں پر کسی بھی قسم کا دباؤ کارگر نہیں ہوتا خواہ اس دباؤ کا ذریعہ خود بشار الاسد حکومت ہی کیوں نہ ہو۔

شامی سرزمین جو ایران کی تمام ملیشیاؤں اور خطے میں اس کے ذیلی دھڑوں کے لیے (مباح) جائز ہوچکی ہے... یہاں مختلف حلقوں کی ناراضگی یہاں تک کہ شامی حکومت کے حامی غیر شیعہ فریقوں کی خفگی میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق شام کے بیچ حمص کے مغربی نواح کے دیہی علاقہ آہستہ آہستہ بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہاں حزب اللہ کی ملیشیاؤں کا عمل دخل لوگوں کی روز مرہ زندگی اور ان کے معمولات میں بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ یہ ملیشیائیں ہر چیز میں خواہ وہ طریقہ تعلیم ہو یا شفاخانوں کی انتظامیہ یہاں تک کہ شادی کی تقریبات میں بھی مداخلت کرتی ہیں۔