.

داعش میں شامل سعودی خاتون شام میں ہلاک

ریما الجریش اور متعدد دوسرے جنگجو فضائی حملے میں مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں میدان جنگ کی صورت حال پر نظر رکھنے والے سماجی کارکنوں نے پتا چلایا ہے کہ اتحادی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں شام کے حسکہ گورنری کے الشدادی شہرمیں سعودی عرب کی ایک داعشی خاتون ریما الجریش ہلاک ہو گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک سماجی کارکن نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ’’ٹیوٹر‘‘ پر پوسٹ کردہ بیان میں دعویٰ کیا کہ الشدادی شہر میں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے طیاروں کی بمباری سے ہلاک ہونے والے داعشی شدت پسندوں میں ریما الجریش بھی شامل ہے۔ الجریش داعش کے الخنساء آن لائن بریگیڈ کی اہم عہدیدار تھی جو انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوانوں کو داعش اور دہشت گردی کی ترغیب دینے میں مصروف عمل رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اتحادی طیاروں کی بمباری میں الشدادی شہر میں داعش کے کئی دوسرے سرکردہ جنگجو کمانڈر بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں آدم الشیشانی، الشدادی میں داعش کے نائب گورنرابوعبیرالعراقی، شہرمیں تنظیم کےعسکری شعبے کے انچارج ابو عایشہ الجزراوی شامل ہیں۔

اتحادی طیاروں نے تازہ بمباری جمعرات کے روز حسکہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں کی تھی جس میں داعش کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

گذشتہ برس اکتوبر میں بھی سعودی خاتون جنگجو کے ریما الجریش کے ایک فضائی حملے میں شدید زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی تاہم العربیہ ڈاٹ نیٹ اس خبر کی تصدیق نہیں کر سکا۔

الجریش نومبر 2014ء کو ملک سے چپکے سے فرار ہو کر شام چلی گئی تھی۔ سعودی سیکیورٹی فورسز نے اس کی تلاش کی مقدور بھر کوشش کی مگربعد میں پتا چلا کہ وہ داعش میں شمولیت کے بعد شام پہنچ چکی ہے۔ شام فرار کے وقت وہ اپنے ساتھ چار بچوں 14 سالہ ماریہ، 13 سالہ عبدالعزیز، 8 سالہ سارہ اور 6 سالہ عمار کو بھی لے گئی تھی۔ اس کا ایک 16 سالہ بیٹا معاذ الھاملی اپنی والدہ سے قبل ہی داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کےہاتھ بیعت کرنے کے لیے شام پہنچ چکا تھا۔

شدت پسند خاتون الجریش نے اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ پر بتایا تھا کہ وہ سعودی عرب سے فرار کے بعد یمن پہنچی جہاں اس کی ملاقات اشتہاری دہشت گردی سعید الشھری کی اہلیہ وفاء الشھری سے ہوئی۔ وفاء نے الجریش کی شام پہنچانے میں مدد کی۔

ریما الجریش کا دعویٰ تھا کہ شام پہنچنے کے بعد داعش نے اسے شعبہ اطلاعات ونشریات کی اہم ذمہ داری سونپی تھی۔ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو داعش کی تعلیمات سے متاثر کرنے کی مہم چلاتی رہی ہے۔