.

25 فروری کو شام امن مذاکرات کی بحالی ناممکن: یو این ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے کہا ہے کہ 25 فروری کو شام امن مذاکرات کی بحالی کوئی حقیقت پسندانہ آپشن نہیں ہے۔

انھوں نے سویڈش اخبار سوینسکا ڈاگ بلیڈٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''میں 25 فروری کو جنیوا میں نئِی بات چیت کے لیے دعوت نامے نہیں بھیج سکتا ہوں۔یہ حقیقت پر مبنی نہیں۔البتہ ہم بہت جلد ایسا چاہتے ہیں''۔

انھوں نے واضح کیا کہ ''ہمیں مذاکرات کی بحالی کے لیے دس دن تیاری کی غرض سے درکار ہیں لیکن یہ بات چیت اسی صورت میں کامیاب ہوسکتی ہے،اگر ہم شام کے محصورعلاقوں میں ہنگامی امداد بہم پہنچانے اور جنگ بندی پر متفق ہوجائیں''۔

اسٹافن ڈی مستورا نے اس سے پہلے جنیوا میں 3 فروری کو شامی فریقوں کے درمیان مذاکرات معطل کردیے تھے اور کہا تھا کہ اس بات چیت کو اسپانسر کرنے والی بڑی طاقتوں کو ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

عالمی طاقتوں نے جرمن شہر میونخ میں گذشتہ ہفتے شام میں جنگی کارروائیاں روکنے سے اتفاق کیا تھا لیکن ان کے درمیان مکمل جنگ بندی پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا اور روس نے شام کے شمالی شہر حلب اور اس کے نواحی علاقوں میں فضائی حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔اب روس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی اور روسی فوجی عہدے داروں کے درمیان جمعہ کو ایک اجلاس میں شام میں جنگ بندی پر اتفاق رائے ہوسکتا ہے۔