.

’’شمال کی گرج‘‘ مشقیں انسداد دہشت گردی کی تیاریوں کا حصہ ہیں‘

سعودی عرب کے شمالی ریجن کے کمانڈر کا مشقوں کا معائنہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شمالی ریجن کے کمانڈر میجنر جنرل فہد بن عبداللہ المطیر نے ’’شمال کی گرج‘‘ کے عنوان سے جاری فوجی مشقوں کا معائنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تیاری کرنا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جنرل عبداللہ المطیرنے جمعہ کے روز’شمال کی گرج‘ مشقوں کا دورہ کیا اور مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی سب سےبڑی مشقوں کے مختلف مراحل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مشقوں میں حصہ لینے والے فوجی افسروں اور جوانوں سے بھی ملاقات کی۔

اس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے جنرل المطیر کا کہنا تھا کہ شمال کی گرج مشقوں میں حصہ لینے والے جوانوں کو شیڈول کے مطابق اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشقیں ہدف کے تعین، عسکری تعاون بڑھانے اور ایک دوسرے کے عسکری اور جنگی تجربات سے استفادہ کرنے کے لیے جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’شمال کی گرج‘ مشقوں کے ذریعے ہم ان مشقوں میں شامل ممالک کی فوج کی جنگی مہارتوں کو بہتربنانے میں معاونت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی حربی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان مشقوں کے بہترین اور مثبت نتائج جلد ہی سامنے آجائیں گے۔ انہوں نے جنگی مشقوں میں حصہ لینے والے ممالک کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ مشقیں اسلامی دنیا کی جانب سے سعودی عرب کے قائدانہ کردار کا اعتراف ہے۔ ان مشقوں کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ جیتنا اور خطے سمیت پوری دنیا میں امن واستحکام کا پیغام پہنچانا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں جاری فوجی مشقوں ’شمال کی گرج‘ میں متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، سینیگال، سوڈان، کویت، مالدیپ، مراکش، پاکستان، چاڈ، تیونس، جزائرالقمر، جیبوتی، سلطنت آف اومان، قطر، ملائیشیا، مصر، موریتانیہ، مارشیس اور دیگر ممالک کے فوجیں حصہ لے رہیں۔ یہ فوجی مشقیں مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی سب سے بڑی مشقیں ہیں۔