.

ایران: "ٹائی" پہنے امیدوار کی تصویر عوام کی حیرت کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی دارالحکومت تہران میں ان دنوں آرمینیائی مسیحی اقلیت کے ایک انتخابی امیدوار کی تصویر موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ گلے میں "ٹائی" پہنے اس امیدوار کی تصویر ایرانی ووٹروں اور شہریوں کے لیے حیرت اور اجنبیت کا مرکب بن گئی ہے۔ ایرانی عوام 26 فروری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں تشہیر کے اس انداز کو ایک بڑی خلاف ورزی شمار کر رہے ہیں۔

ایرانی حکومت کے "بنیادی انقلابی اصولوں" کے مطابق ٹائی کو شریعت کے منافی چیز اور مغرب کی اندھی تقلید سمجھا جاتا ہے۔

انتخابی امیدوار کارن خانلری کا ایک بڑا پوسٹر تیار کیا گیا ہے جس میں ان کی ٹائی پہنے تصویر کے ساتھ آرمینیائی زبان میں تشہیری عبارت بھی تحریر ہے۔ اس تصویر نے خود لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو تعجب اور حیرت کی تصویر بنا دیا ہے جن کے نزدیک یہ تصویر ولایت فقیہ کے نام سے حکمرانی کرنے والی حکومت کے زیرانتظام ایرانی معاشرے کی ماڈل تصاویر کے لیے ایک چیلنج ہے۔

آرمینیائی آرتھوڈکس چرچ کی جانب سے امیدوار کے طور پر خانلری کی تصاویر دارالحکومت کی سڑکوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہ ایران میں سب سے بڑا مسیحی فرقہ ہے جس کے پاس پارلیمنٹ کی مختص 3 میں سے دو نشستیں ہیں جب کہ تیسری نشست آشوریائی مسیحیوں کے پاس ہے۔

جہاں تک ایران میں موجود دیگر مذاہب کا تعلق ہے تو پارلیمنٹ میں یہودیوں اور زرتشتوں کے لیے ایک ایک نشست مختص ہے۔

ایرانی حکام کی جانب سے خانلری کی تصویر پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے جو ایران میں تقریبا 1 لاکھ مسیحیوں کی اقلیت سے تعلق رکھنے والے امیدوار ہیں۔ ان مسیحیوں میں 80 ہزار کا تعلق آرمینیائی آرتھوڈکس فرقے سے ہے جن میں اکثریت یعنی 60 ہزار دارالحکومت تہران میں رہتے ہیں۔

تہران میں مسیحیوں کے 19 اسکول اور 11 چرچ ہیں۔ چرچوں میں سب سے بڑا سینٹ قدیس چرچ ہے۔ ان کے علاوہ 29 ثقافتی، سماجی اور کھیلوں کے کلبوں کے ساتھ ساتھ فلاحی سوسائٹیز اور دنیا کے دو قدیم ترین چرچ بھی پائے جاتے ہیں۔

ایران کا آئین اسلام اور شیعیت کو ملک کا سرکاری مذہب اور مسلک قرار دینے کے ساتھ ساتھ مسیحیت، یہودیت اور زرتشت مذاہب کو بھی تسلیم کرتا ہے ... جب کہ اہواز میں رہنے والے صابی مذہب کے پیروکاروں (صابئین) کو جن کی تعداد 70 ہزار کے قریب ہے آئین میں تسلیم کرنے سے مستثنی رکھا گیا ہے۔ یہ لوگ آرامی اور عربی زبان بولتے ہیں۔