.

دمشق اور حمص میں تباہ کن بم دھماکے ،76 افراد ہلاک

شامی دارالحکومت میں حضرت سیدہ زینب کے مزار کے نزدیک دوبارہ بم حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق اور وسطی شہر حمص میں اتوار کے روز تباہ کن بم دھماکوں میں چھہتر افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن اور ایک مانیٹر کی اطلاع کے مطابق دمشق میں پے درپے متعدد بم دھماکے ہوئے ہیں اور شہر کے جنوب میں واقع حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے مزار کے نزدیک علاقے کو ایک مرتبہ پھر کار بم حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا ہے کہ سیدہ زینب کے مزار کے نزدیک واقع علاقے میں پہلے بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے اور پھر دو حملہ آور بمباروں نے خود کو دھماکوں سے اڑایا ہے۔ان کے نتیجے میں تیس افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ دمشق میں چار بم دھماکے ہوئے ہیں اور ان میں اکتیس افراد مارے گئے ہیں۔شامی دارالحکومت میں ان بم دھماکوں سے چند گھنٹے قبل وسطی شہر حمص میں دو کار بم دھماکوں میں چھیالیس افراد مارے گئے تھے۔

شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق حمص کے وسطی علاقے الزہرا میں بارود سے بھری دو کاروں کو دھماکوں سے اڑایا گیا ہے۔شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ان بم دھماکوں کی تصدیق کی ہے لیکن ان میں ہلاکتوں کی تعداد صرف چودہ بتائی ہے اور کہا ہے کہ انتیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

شام کے حکومت نواز الاخباریہ ٹیلی ویژن چینل نے بم دھماکوں کے بعد تباہ شدہ دکانوں،جلتی ہوئی کاروں اور زخمی ہونے والے افراد کی فوٹیج نشر کی ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے دمشق اور حمص میں ان خودکش اور کار بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

گذشتہ ماہ سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے حمص میں ایک بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس حملے میں چوبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔دسمبر میں ایک اور بم دھماکے میں بتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے اور وہ بم دھماکا شہر میں شامی حکومت اور باغی گروپوں کے درمیان جنگ بندی کے لیے سمجھوتا طے پانے کے بعد ہوا تھا۔اس سمجھوتے کے نتیجے میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے شہر میں باغیوں کے زیر قبضہ رہ جانے والے واحد علاقے کا بھی کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

حمص اور دمشق میں یہ بم دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب داعش اور دوسرے باغی گروپوں کو شمالی شہر حلب اور اس کے نواحی علاقوں میں شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں کے مقابلے میں لڑائی میں ہزیمت کا سامنا ہے اور حالیہ ہفتوں کے دوران شامی فورسز نے صوبہ حلب میں واقع متعدد دیہات کا کنٹرول واپس لے لیا ہے۔انھوں نے یہ تمام فوجی کامیابیاں روس کی فضائی مدد سے حاصل کی ہیں۔روسی لڑاکا طیارے اس وقت حلب اور ادلب میں داعش ،القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ اور دوسرے باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔