.

مجھے شام کے نجات دہندہ کے طور پر یاد رکھا جائے :بشار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے:''وہ چاہتے ہیں کہ انھیں آج کے بعد دس سال تک شام کے نجات دہندہ کے طور پر یاد رکھا جائے''۔

انھوں نے اس خواہش کا اظہار ہسپانوی اخبار ایل پیس کے ساتھ انٹرویو میں کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ ایک شرط پر جنگ بندی کے لیے تیار ہیں اور وہ یہ کہ باغی اور ان کے بین الاقوامی مددگار ترکی وغیرہ اس کو دوبارہ منظم ہونے کے لیے ایک موقع کے طور پر استعمال نہ کریں۔

اخبار کی ویب سائٹ پر شائع شدہ انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ''دس سال میں ،میں بطور صدر شام کو بچا سکتا ہوں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں ان دس برسوں میں بھی صدر رہوں گا بلکہ میں صرف اپنے دس سالہ ویژن کے بارے میں بات کررہا ہوں۔اگر شام محفوظ ومامون بن جاتا ہے اور میں ہی اس ملک کو بچاتا ہوں تو اب سے میرا یہ کام اور فرض ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر شامی عوام مجھے اقتدار میں چاہتے ہیں تو میں رہوں گا۔اگر وہ نہیں چاہتے تو میں کچھ بھی نہیں کرسکتا۔میرا مطلب ہے کہ میں اپنے ملک کی مدد نہیں کرسکتا ہوں۔اس لیے مجھے درست طریقے سے (اقتدار) چھوڑنا ہوگا''۔

شام رابطہ گروپ میں شامل عالمی طاقتیں جنگ زدہ ملک میں فوجی کارروائیاں روکنے پر زوردے رہی ہیں تاکہ متحارب فریقوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہوسکے لیکن برسرزمین مختلف محاذوں پر لڑائی میں شدت کے بعد یہ جزوی جنگ بندی تار تار ہوتی نظر آرہی ہے۔

شامی صدر نے 12 فروری کو فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ ایک انٹرویو میں پورے ملک کا کنٹرول حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔اس کے چندے بعد ہی میونخ میں امریکا ،روس اور دوسرے ممالک کے درمیان شام میں جنگی کارروائیاں روکنے پر اتفاق ہوا تھا۔تاہم روس نے بشارالاسد کی حمایت میں باغیوں پر فضائی حملے روکنے سے انکار کردیا تھا۔

اب بشارالاسد نے ایل پیس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں لیکن اس کو دہشت گردوں کو اپنی پوزیشنوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔واضح رہے کہ بشارالاسد اور ان کی حکومت تمام باغیوں کو دہشت گرد قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ ''جنگ بندی دوسرے ممالک اور خاص طور پر ترکی کو مزید ریکروٹس ،مزید دہشت گرد ،اسلحہ یا ان دہشت گردوں کے لیے کسی قسم کی لاجسٹیکل امداد کو بھیجنے سے روکنے کے لیے ہونی چاہیے''۔

اس وقت شامی فورسز لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور ایرانی فوجیوں کی مدد سے شمالی صوبے حلب میں باغی گروپوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کررہی ہیں۔انھیں روس کی فضائی مدد حاصل ہے۔اس لڑائی کے نتیجے میں حلب میں ہزاروں شامی بے گھر ہوگئے ہیں اور وہ ترکی کا رخ کررہے ہیں۔

بشارالاسد کا کہنا تھا کہ ''ان کے روسی اور ایرانی اتحادیوں کی مدد نے شامی فورسز کی حالیہ بڑی کامیابیوں اور پیش قدمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ہمیں اس مدد کی اشد ضرورت ہے اور اس کا سادہ سا جواز ہے کہ ان دہشت گروپوں کی اسّی سے زیادہ ممالک مختلف طریقوں سے مدد کررہے ہیں''۔

انھوں نے ہسپانوی روزنامے سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ''ان میں سے بعض ممالک براہ راست رقوم ،لاجسٹیکل سپورٹ ، اسلحے اور بھرتی کے ذریعےان گروپوں کی مدد کررہے ہیں۔بعض ممالک مختلف عالمی فورموں پر ان کی سیاسی مدد کررہے ہیں''۔