.

’لبنان حزب اللہ اور عرب ممالک میں کسی ایک کا انتخاب کرے‘

بیروت کو اپنا قبلہ درست کرنا پڑے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جانب سے لبنان کے سیکیورٹی اداروں کو دی جانے والی امداد بند کرنے کے اعلان پر خلیجی ممالک نے ریاض کی بھرپورحمایت اور تائید کی۔ خلیجی ریاست بحرین نے بھی لبنانی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بیروت عرب ممالک سے ساتھ تعلقات یا بیرونی دشمن کی ایجنٹ حزب اللہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بحرین کے وزیرخارجہ الشیخ خالد بن احمد آل خلیفہ نے ’ٹوئٹر‘ پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ لبنان کے پاس دو ہی راستے ہیں۔ یا تو وہ عرب ملکوں اور مسلم امہ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کرتے ہوئے اپنا قبلہ درست کرے یا دہشت گردوں کی ایجنٹ[حزب اللہ] کے ساتھ اپنا تعلق قائم کر کے یہ اعلان کر دے کہ وہ عرب ممالک کے ساتھ تعاون پر تیار نہیں ہے اور اسے دہشت گردوں کا مفاد عزیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ صرف سعودی عرب، بحرین یا عرب ممالک کی دشمن نہیں بلکہ یہ لبنانی قوم، لبنان کی سالمیت اور لبنان کے عرب تشخص کی دشمن ہے۔ لبنان اس وقت دو راہے پر کھڑا ہے۔ اسے یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ عرب بھائیوں کے ساتھ ہے یا اسےحزب اللہ جیسے دہشت گردوں کا مفاد عزیز ہے۔

قبل ازیں سعودی عرب کی جانب سے لبنان کی فوجی امداد بند کیے جانے پر خلیجی ملکوں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے ریاض کی مکمل تائید اور حمایت کا اعلان کیا تھا۔ منامہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب کا لبنانی فوج کی امداد روکنے کا اعلان بروقت اور مناسب ہے۔ بحرین حکومت سعودی عرب کے اس اقدام کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔