.

لبنان کے حزب اللہ مخالف وزیرِ عدل اشرف ریفی مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے وزیر انصاف اشرف ریفی مستعفی ہوگئے ہیں۔العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے سابق وزیر میشال سماحہ کے خلاف دہشت گردی کے الزام میں مقدمہ نہ چلانے کو اپنے استعفے کی وجۂ جواز قرار دیا ہے۔

اشرف ریفی نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی ''ناقابل قبول'' سرگرمیوں کوبھی اپنے استعفے کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔لبنانی روزنامے ڈیلی اسٹار کی ویب سائٹ کے مطابق مستعفی وزیر نے حزب اللہ پر لبنانی ریاست کو تار تار کرنے اور لبنان کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو خطرات سے دوچار کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

اسی ہفتے انھوں نے سابق وزیر میشال سماحہ کا کیس ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو بھیجنے کا ا علان کیا تھا۔انھوں نے کابینہ کے بعض ارکان پر لبنان کی عدالتی کونسل کی کارروائیوں پر اثرانداز ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔

لبنان کے سابق وزیر میشال سماحہ کو گذشتہ ماہ ملک میں شام سے اسلحہ اور گولہ بارود اسمگل کرنے کے الزام میں قائم مقدمے میں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔انھیں گذشتہ سال مئی میں ایک فوجداری عدالت نے ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔انھیں اگست 2012ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ لبنان میں جیل کا ایک سال نو ماہ کے عرصے کے برابر ہوتا ہے۔

لبنان کی ایک فوجی عدالت نے میشال سماحہ کو پندرہ کروڑ لبنانی پاؤنڈز کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔وہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے قریب سمجھے جاتے تھے اور انھیں سنائی گئی اس کم سزا پر لبنانی سیاست دانوں اور عوامی حلقوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اور عدالتی فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ان کا کہناتھا کہ عدالت نے وزیر کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا تھا اور ان کے جرائم کے مقابلے میں بہت کم سزا سنائی تھی۔

اس سابق لبنانی وزیر نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا اقبال جرم کیا تھا اور لبنان میں حملوں کی سازش کی تفصیل فراہم کی تھی۔انھوں نے بتایا تھا کہ شام کے سکیورٹی چیف علی مملوک نے اس سازش کے تانے بانے بُنے تھے۔اس پر ایک فوجی عدالت نے انھیں ساڑھے چارسال قید کا حکم دیا تھا۔

اس مقدمے میں شام کے دو اعلیٰ عہدے داروں پر بھی فرد جرم عاید کی گئی تھی۔ان میں شامی فوج کا ایک سرکردہ جنرل شامل تھا۔لبنان میں شام نوازوں کے خلاف اس طرح کا عدالتی فیصلہ اور انھیں سزا سنائے جانے کا یہ ایک منفرد واقعہ تھا کیونکہ ماضی میں شام سے تعلق رکھنے والے عہدے داروں کو لبنان میں سزائیں سنانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔