.

پاسداران انقلاب.. ایرانی مرشد اعلیٰ کی سیاسی گرفت کی مضبوطی کا آلہ کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور مجلس خبرگان کے انتخابات مرشد اعلیٰ، پاسداران انقلاب اور ان کے علاوہ حکام میں بعض غیرمنتخب حلقوں کے زیرنگرانی مخلتف ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی اتنخابات سے پہلے پاسداران انقلاب نے اپنے اور مرشد اعلیٰ کے غیرحمایت یافتہ ذرائع ابلاغ کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا ہے۔

ایران کے اندرونی سیاسی منظرنامے میں پاسداران انقلاب کی حیثیت اور غلبہ آخر ہے کیا؟

امریکا کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں میں مندرج ایرانی پاسداران انقلاب ... درحقیقت مرشد اعلیٰ کے ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسی کو اپنی گرفت میں رکھنے کے لیے ایک اہم آلہ کار ہے۔

اس عسکری ادارے کا کردار انقلاب کے نام نہاد بیرونی دشمنوں کے ساتھ محاذ آرائی تک محدود نہیں بلکہ اس ادارے نے ملک کے اندر حکومتی نظام کے مخالفین کا بھی مقابلہ کرتے ہوئے عوام کو حرکت میں لانے والی ہر شخصیت کو ناکام بنایا ہے۔

یہ ادارہ براہ راست شکل میں ملک میں سپریم اتھارٹی یعنی ایرانی مرشد اعلیٰ کے احکامات کی پیروی کرتا ہے۔

ایرانی انقلابی قیادت نے اپنے سیاسی، اقتصادی اور عسکری مفادات کے دفاع کے لیے پاسداران انقلاب کو وسیع اختیارات دیے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ اداراہ ایرانی حکومت کی سیکورٹی کو تحفظ فراہم کرنے والی طاقت کا مرکز بن چکا ہے۔

بطور ادارہ پاسداران انقلاب کا رسوخ بہت زیادہ ہے۔ اس کے اپنے وسائل ہیں اور اس کا بجٹ ایرانی معاشرے کے تمام تر پہلوؤں کو شامل کرتا ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ پاسداران اور ان کی شاخ در شاخ پھیلی سرگرمیوں پر ریاست کی جانب سے کوئی نگرانی یا کنٹرول نہیں ہے۔

مجلس شوریٰ اور مجلس خبرگان کے انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ ہی پاسداران انقلاب نے اپنی گرفت سے باہر ذرائع ابلاغ کے گرد گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا ہے۔ اس دوران صحافیوں کا پیچھا کرکے انتخابات سے قبل ان کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا جا رہا ہے۔

ماضی میں بھی پاسداران انقلاب اپنے درجنوں سابقہ مہرے مجلس شوریٰ میں پہنچا چکی ہے۔ ان میں پارلیمنٹ میں بنیاد پرست گروپ کے سربراہ حداد عادل اور ان کی ساتھی، اسی طرح احمدی نژاد کے ساتھی ... اور اس وقت بھی بعض صوبوں میں پارلیمنٹ کے لیے 150 امیدوار بنا کسی مقابلے کے موجود ہیں جو سب کے سب پاسداران کے پیروکار ہیں۔

دوسری جانب مجلس خبرگان کی 88 نشستوں میں سے 58 نشستوں پر علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے نزدیک رہنے والے افراد براجمان ہیں۔

اس حقیقت نے ایرانی نوجوانوں کو ایسے نعروں پر مجبور کردیا جو ان جذبات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ انتخابات جمہوریہ ایران میں نہیں بلکہ جمہوریہ پاسداران انقلاب میں ہورہے ہیں۔

بہرکیف یہ ہیں ایرانی انتخابی نظام تک پھیلی ہوئی وہ مداخلتیں جن کے ساتھ آزاد اور شفاف انتخابات کا انعقاد ناممکن ہوجاتا ہے۔