.

باغیوں نے حلب میں شامی فوج کی سپلائی لائن کاٹ دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں داعش اور دوسرے جنگجوؤں نے دوسرے بڑے شہر حلب سے مغرب میں اسدی فوج کے زیر قبضہ علاقوں کو ملانے والے اہم سپلائی روٹ کو منقطع کردیا ہے۔

حلب اور اس کے جنوب مشرق میں واقع خانسر شہر کے درمیان شاہراہ اسدی فورسز کے زیرقبضہ دوسرے علاقوں کے درمیان رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔اسی شاہراہ کے ذریعے حلب کے شہری دوسرے صوبوں میں آتے جاتے ہیں۔اگر سرکاری فورسز اس شاہراہ پر دوبارہ قبضے میں ناکام رہتی ہیں تو اس سے اس کی حلب کے ارد گرد کے علاقوں پر دوبارہ قبضے کے لیے باغیوں کے خلاف بڑی کارروائی سست روی کا شکار ہوسکتی ہے اور شہریوں کو پانی اور خوراک کی بدترین قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے سوموار کو بتایا ہے کہ قفقاز اور چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے جہادیوں اور ان کے علاوہ جہادی گروپ جند الاقصیٰ نے اچانک حملے کے بعد شامی فورسز کے سپلائی روٹ کو منقطع کردیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے شمال کی جانب اسی روٹ کے ایک اور حصے کو کاٹ دیا ہے۔

واضح رہے کہ شام میں گذشتہ دو سال کے دوران ہزاروں غیرملکی جنگجو صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑنے کے لیے آئے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر القاعدہ سے وابستہ گروپ النصرۃ محاذ ،داعش یا جند الاقصیٰ کی صفوں میں شامل ہوکر لڑرہے ہیں۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ جہادیوں نے حلب کی جانب جانے والے سرکاری فوج کے سپلائی روٹ کو منقطع کیا ہے۔باغیوں نے 2013ء اور داعش نے گذشتہ سال بھی اس روٹ پر قبضہ کیا تھا لیکن بعد میں انھیں پسپا کردیا گیا تھا۔

باغیوں نے یہ نئی پیش قدمی ایسے وقت میں کی ہے جب شامی فوجی حلب کے شمال اور مغربی علاقوں میں روس کی فضائی مدد سے باغی جنگجو گروپوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کررہے ہیں جبکہ شہر کے مشرق میں موجود باغی جنگجو مکمل طور پر گھر چکے ہیں۔