.

سیز فائر مذاکرات کے لئے شامی اپوزیشن ریاض پہنچ گئی

داعش نے حلب کے 25 دیہات بشار الاسد کے حوالے کر دیئے: علوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مستقل کے بارے میں اعلی مذاکراتی تنظیم کا ہنگامی اجلاس پیر کے روز سعودی دارلحکومت ریاض میں منعقد ہو رہا ہے جس میں ممکنہ سیز فائر کی کامیابی کے لئے ضروری ضمانتیں فراہم کرنے پر غور کیا جائے گا۔

اعلی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ریاض حجاب نے بتایا کہ وہ کمیٹی کے ارکان سے ابتک سیز فائر کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت اور مذاکرات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اجلاس کے موقع پر شامی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کے درمیان الگ الگ ملاقاتیں بھی ہوں گی۔ نیز مغربی ملکوں کے نمائندوں سے بھی اجلاس کی سائیڈ لائن پر ملاقاتیں ہوں گی۔

ریاض حجاب نے شامی اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کی جس میں انہوں نے وقتی سیز فائر پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے سیز فائر کو روبعمل لانے کے لئے اقوام متحدہ کی ضمانت کا مطالبہ کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ شامی حکومت اور اس کے اتحادی فائر بندی سے قبل شامیوں کا قتل عام اور گولہ باری بند کریں۔

شامی نیشنل الائنس کے سابق سربراہ ھادی البحرہ نے ایک مرتبہ پھر اس موقف کا اعادہ کیا کہ شام میں فائر بندی شامی حکومت اور روس کی جانب سے بمباری بندش سے مشروط ہے۔ 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس امر کی جانب اشارہ کیا کہ روس کو چاہئے کہ وہ ایران اور حکومتی ملیشیاوں پر دباو ڈالے کہ وہ اپنے حملے بند کریں۔

ادھر جیس الاسلام پارٹی کے نمائندے اور جنیوا مذاکرات کے تیسرے دور میں شریک اہم رہنما محمد علوش نے "العربیہ" کے برادر چینل"الحدث" کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ترکی اور سعودی عرب کی جانب سے زمینی کارروائی کی دھمکی کے بعد داعش نے حلب کے مضافات میں کم سے کم 25 دیہات شامی حکومت کے حوالے کئے۔

علوش کے بقول ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ جن میں بتایا گیا ہے کہ داعش شام میں اپنے مضبوط گڑھ 'الرقہ' کو بھی شامی حکومت کے حوالے کرنے پر تیار ہے۔ پین عرب اخبار 'الشرق الاوسط' کے مطابق اگر یہ اطلاع درست ثابت ہوئی تو شامی حکومت اور داعش کے درمیان سیکیورٹی کوارڈی نیشن کی تصدیق ہو جائے گی۔