.

شامی حکومت کے حامی عوام کے جذبات بھڑکنا شروع !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شہر حمص میں اتوار کے روز دو کار بم دھماکوں کے نتیجے میں 76 افراد جاں بحق اور 170 زخمی ہو گئے۔ شامی حکومت کے زیرانتظام سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق الزہراء کے علاقے میں ہونے والے دونوں دھماکے خودکش حملے نظر آتے ہیں۔

حملوں کے بعد حمص کے گورنر نے دھماکوں کے مقامات کا دورہ کیا تو اس موقع پر بڑی تعداد میں حکومت کے حامی شہری جمع ہو گئے اور گورنر کو خوب برا بھلا کہا۔ غصے میں بپھرے ہوئے افراد نے اپنے گھروالوں کی ہلاکت اور بڑھتے ہوئے دھماکوں کا مکمل ذمہ دار گورنر کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے زیرانتظام علاقوں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

حکومت کے حامی اور نزدیک سمجھے جانے والے ایک چینل سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے حمص کے گورنر نے اپنا دفاع کرتے ہوئے بتایا کہ "سیکورٹی کمیٹی نے بہت سے اقدامات کیے ہیں اور جدید سیکورٹی آلات بھی موجود ہیں مگر دہشت گرد بھی اپنے آلات میں جدت لارہے ہیں، تاہم یہ دہشت گردی علاقے کے اندر داخلہ سیکورٹی کے اسکوائرز تک نہیں پہنچ سکی"۔

داعش کا ذمہ داری قبول کرنا ... علاقے کی چوکیاں فوجی بیرکیں

داعش تنظیم نے اپنے زیرانتظام اعماق ایجنسی کے ذریعے الزہراء کے علاقے میں ہونے والے دونوں خودکش کار بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی۔

اہم اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ شام کے حوالے سے کسی بھی کانفرنس سے قبل ملک میں حکومت کے ہمنوا علاقوں میں دھماکے شروع ہوجاتے ہیں۔ اور جب بھی جنگ بندی سے متعلق اتفاق رائے طے پارہا ہوتا ہے تو دھماکوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے بعد حکومت ان کو اپوزیشن کی جانب سے کی گئی دہشت گرد کارروائیاں قرار دے کر ان کی مذمت میں تیزی دکھاتی ہے۔ تاہم عجیب سی بات اور سوال یہ ہے کہ دھماکا خیز مواد سے بھری یہ گاڑیاں ایسے علاقے میں کس طرح داخل ہوگئیں جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ رکاوٹوں اور تفتیشی چوکیوں کی کثرت کی وجہ سے ایک ناقابل گزر قلعے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے !

حکومت کے ہمنوا یہ علاقے انقلابی تحریک کے آغاز سے ہی دشوار گزار قلعوں کی طرح سے ہیں جن کی سیکورٹی میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا رہا۔ یہاں رہنے والوں کی اکثریت علوی فرقے سے تعلق رکھتی ہے اور یہاں بعض شیعہ ملیشیائیں داخل ہوتی ہیں جن کو کوئی نہیں روک سکتا۔ خوراک اور طبی سامان پر مشتمل قافلوں کے ان علاقوں میں داخل ہونے سے قبل ایک سے زیادہ بار تلاشی لی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر رکاوٹ پر پیدل چلنے والوں کی بھی تلاشی لی جاتی ہے اور گزرنے والی ہر گاڑی کی خصوصی جانچ کی جاتی ہے ... تو ایسے میں دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑیاں کس طرح ان قلعوں میں داخل ہو رہی ہیں ؟

عوام کے جذبات میں اُبال

حکومت نواز پلیٹ فارمز پر ان دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے تعزیت کی گئی ہے۔ حملوں کے بعد 35 میتیں الزہراء کے الباسل ہسپتال، 13 میتیں الاہلی ہسپتال، 6 میتیں کرم اللوز کے الباسل ہسپتال پہنچائی گئیں۔ ان کے علاوہ الزہراء کے النہضہ ہسپتال اور وادی الذہب کے بھی النہضہ ہسپتال میں ایک ایک میت لائی گئی۔

بشار حکومت کے حامیوں کے اندر بے چینی کی لہر

یاد رہے کہ یہ دھماکا اسی علاقے میں تیسری کارروائی، رواہ ماہ فروری میں مسلسل دوسری کارروائی اور میجر جنرل لوئی معلا کی جگہ سیکورٹی کمیٹی کے نئے سربراہ کے تقرر کے بعد پہلی کارروائی ہے۔ اس سے قبل حمص کے گورنر طلال برازی کی تبدیلی کے لیے ہونے والے عوامی دھرنے کو ختم کرا دیا گیا تھا۔ اگرچہ پاپولر کمیٹیز اور ان حکومت ہمنوا علاقوں کے رہنے والوں نے اس حوالے سے تمام تیاریاں مکمل کرلی تھیں مگر حکومت نے گورنر کو تبدیل نہیں کیا۔ طلال برازی پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ عوام کے تحفظ میں غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں اور علوی فرقے کے فرزندوں کی حفاظت میں ناکام ہوچکے ہیں جب کہ ان علاقوں کے داخلی راستوں کی رکاوٹوں پر موجود زیادہ تر اہل کار اور افسران اسی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

بشار حکومت کے حامیوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کے باوجود کار بم دھماکوں کا یہ عفریت آئندہ دنوں میں بھی پراسرار رہے گا۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے پیچھے موجود حقائق منظرعام پر آجائیں جہاں حکومت کے ہمنوا علاقوں میں عوام کے پھٹ پڑنے کے قوی اندیشے موجود ہیں۔ ایسی حکومت کے خلاف جو کسی بھی قیمت پر اپنے مقاصد اور مفادات کی خاطر... دور والوں سے پہلے قریب والوں کو ہلاک کرنے میں ہر گز نہیں ہچکچائے گی۔