.

یمن: بحر احمر کے جنوب میں پھر سے سرکاری فوج کا کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کار سعودی عرب کے زیرقیادت اتحادی افواج کی معاونت سے ذباب گورنری کا مرکزی کنٹرول واپس لے لیا ہے۔ بحر احمر کے جنوب میں یمن کے صوبے تعز کی اس گورنری پر تقریبا ایک ہفتہ قبل حوثی اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی ملیشیاؤں نے قبضہ کر لیا تھا۔

ذباب کے اسٹریٹجک علاقے کو واپس لینے کے ساتھ ساتھ سرکاری فوج اسی علاقے میں العمری کیمپ کے نزدیک واقع المنصورہ پوائنٹ کے قریب پہنچنے میں بھی کامیاب ہوگئی جہاں اب بھی مسلح ملیشیاؤں کے ساتھ مقابلہ جاری ہے۔ اس تمام کارروائی کے دوران سرکاری فوج کو عرب اتحادی افواج کے اپاچی ہیلی کاپٹروں کی معاونت حاصل رہی۔

ادھر عوامی مزاحمت کار تعز کے جنوب میں باغیوں کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد حیفان کے متعدد ٹھکانوں کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس دوران ملیشیاؤں نے ثعبات، الجحملیہ اور الکمب کے علاقوں کے علاوہ تعز شہر کے مشرقی علاقے الدعوہ کو بھی اندھادھند گولہ باری کا نشانہ بنایا۔

شہر کے جنوب میں المسراخ کے محاذ پر باغیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ باغی گورنری کے اس صدرمقام پر دوبارہ قبضے کی کوشش کررہے تھے جسے سرکاری فوج نے چند روز قبل آزاد کرایا تھا۔ مسلح ملیشیاؤں نے سنان کے علاقے میں پانی کی تقسیم کی جگہ شہریوں کے مجمع کو بمباری کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے، ان میں اکثریت خواتین کی تھی۔

دوسری جانب اتحادی افواج اور سرکاری فوج نے دارالحکومت صنعاء کے شمال مغرب میں دو محاذوں حرض اور میدی پر بڑی عسکری کمک پہنچا دی ہے۔ اس پیش رفت سے قبل یمن اور سعودی عرب کی مشترکہ سرحد کے نزدیک واقع ان محاذوں پر شدید لڑائی ہوئی جہاں ایک جانب سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کار اور دوسری جانب حوثی اور معزول صدر صالح کی ملیشیائیں تھیں۔ لڑائی میں فریقین کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

ادھر اتحادی طیاروں نے دارالحکومت کے جنوب مشرق میں واقع خولان گورنری میں العرقوب کیمپ اور اس سے متصل علاقے الاعروش کو حملوں کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ ارحب گورنری میں الدیلمی کے فضائی اڈے اور الصمع اور الفریجہ کے عسکری کیمپوں پر بھی بمباری کی گئی۔

تہامہ صوبے میں عوامی مزاحمت کاروں کی پیش قدمی کے نتیجے میں حوثی اور معزول صدر صالح کی ملیشیاؤں کے درجنوں جنگجو مارے گئے۔ عوامی مزاحمت کاروں نے الحدیدہ شہر اور نواحی دیہاتوں میں باغی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں، دفاتر اور گشتی دستوں پر حملے کیے۔ اس دوران اتحادی طیاروں نے ملیشیاؤں کے ٹھکانوں اور مجمعوں پر براہ راست بمباری کا سلسلہ جاری رکھا۔