.

لبنان کے اندر "حزب اللہ" کی خودمختار "ریاست" !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں کسی سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ "حزب اللہ کی چھوٹی ریاست" لبنانی ریاست کے متعدد فیصلوں کے حوالے سے تنظیم کی اجارہ داری تک محدود نہیں۔ یہ تنظیم تو حکومت اور سرکاری فیصلے کا بھی انتظار نہیں کرتی ہے۔ یہاں تک کہ لبنان میں داخلی سطح پر مذمتیں اور بھرپور اعتراضات بھی حزب اللہ کو شام میں اپنی جنگ جاری رکھنے سے نہ روک سکیں۔ ایسی جنگ جس کے جواز میں پہلے تنظیم نے یہ کہا کہ وہ مذہبی مقامات کے دفاع کے لیے آئی ہے۔ اس کے بعد اس جنگ کو "تکفیریوں" کے خلاف قرار دیا اور اب حال ہی میں یہ انکشاف کیا گیا کہ یہ بشار الاسد اور اس کی حکومت کے دفاع کے لیے ہے۔ اس سے قبل حزب اللہ کئی مرتبہ یہ باور کراچکی ہے کہ وہ ایرانی "فقیہ کی ولایت کا ایک سپاہی" ہے۔

حزب اللہ کی ریاست کا دائرہ کار بیروت کے جنوب میں تنظیم کے گڑھ الضاحیہ کے اندر روزمرہ کی زندگی پر بھی اثر انداز ہے۔ وہ علاقہ جو حزب اللہ سے پہلے لبنان میں تمام فرقوں کے لیے کھلا ہوا تھا ... اب وہاں ہر چیز "تنظیم کے آثار" کا پتہ دیتی ہے۔ خمینی کی تصاویر جن کو جولائی 2006 کی جنگ کے فورا بعد بڑی تعداد میں لٹکایا گیا تھا اور اب بھی جب کبھی ضرورت اور سیاسی مفاد کا تقاضہ ہوتا ہے تو ان کو لٹکا دیا جاتا ہے ... ان تصاویر سے لے کر حزب اللہ کے ان ارکان کی تصاویر تک جو شام کی جنگ میں مارے گئے۔ تنظیم کی اجازت کے بغیر یہاں کسی بھی صحافی کی طرف سے تصویر کشی منع ہے۔ یہاں تک کہ لبنانی ریاست کے سیکورٹی اداروں کی جانب سے چھاپوں کی کارروائی بھی "تنظیم کی متعلقہ کمیٹیوں سے کوآرڈینیشن کے بعد" ہی عمل میں لائی جاسکتی ہیں۔

حزب اللہ نے اپنے زیرکنٹرول علاقوں بالخصوص الضاحیہ اور بعض جنوبی علاقوں میں اپنی "نظریاتی ثقافت" کو راسخ کردیا ہے۔ تنظیم نے یہاں اپنے اسکول، ہسپتال اور سرنگوں کو تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی خصوصی "اسکاؤٹ" ٹیمیں بھی تیار کیں ... 7 مئی 2008 کو حزب اللہ نے لبنانیوں کے سامنے اپنی طاقت کے استعمال کا مظاہر بھی کیا۔

سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ ریاست بعض مطلوب عناصر کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ جیسا 2008 میں لبنانی پائلٹ سامر حنا کی "حزب اللہ" کے ایک رکن مصطفی المقدم کے ہاتھوں غلطی سے ہلاکت کے کیس میں ہوا ... یا 2012 میں تنظیم کے ایک پیروکار محمود حایک کی جانب سے لبنانی وزیر بطرس حرب کو قتل کرنے کی کوشش کے معاملے میں بھی ہوا۔

غالبا نمایاں ترین مسئلہ تنظیم کی جانب سے متعدد مرتبہ اپنے بڑے رہ نماؤں کی زبانی اس بات کا باور کرانا ہے کہ وہ سابق لبنانی وزیراعظم رفیق الحریری کے قتل کیس میں مطلوب افراد کو کسی طور عالمی عدالت کے حوالے نہیں کرے گی۔ الحریری کے قتل کیس کو دیکھنے والی عالمی عدالت ان افراد کے ملوث ہونے کے شواہد ناموں کے ساتھ فراہم کرچکی ہے۔ رفیق الحریری کے قتل کے بعد تقریبا 9 سال تک جاری رہنے والی طویل تحقیقات کے بعد لبنان میں عالمی عدالت نے فروری 2005 میں ہونے والی اس دہشت ناک کارروائی کے ملزمان کے ناموں اور ان کی تعداد کا تعین کیا۔ ان میں نمایاں ترین ملزمان حزب اللہ کے 5 ارکان مصطفى بدر الدين، سليم عياش، حسين حسن عنيسی، اسد صبرا اور حسن مرعی تھے۔