.

داعش کاحملہ، شامی فوج کا سپلائی روٹ دوسرے روز بھی بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے حملے کے بعد شمالی شہر حلب کی جانب جانے والا شامی حکومت کا ایک اہم سپلائی روٹ دوسرے روز بھی بند رہا ہے۔

ایک شامی باغی نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو میں بتایا ہے کہ حلب اور شمامی حکومت کے کنٹرول میں جنوبی شہروں کو ملانے والی شاہراہ پر داعش کے حملے کے بعد مزاحمت کاروں پر دباؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔شامی فوج روس کی فضائی مدد سے حلب میں باغی گروپوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کررہی ہے اور اس نے حالیہ ہفتوں کے دوران بہت سے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے لیکن اب داعش کے شمال اور جنوب کو ملانے والی اس شاہراہ پر حملے کے بعد شامی فوج کے قدم رک گئے ہیں۔

شامی فوج کے ایک ذریعے کا کہناہے کہ داعش کے حملے کو پسپا کرنے کے لیے فوج کی کارروائی جاری ہے۔یہ شاہراہ حلب کو شام کے مغرب میں واقع حکومت کے زیر قبضہ علاقوں سے ملاتی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ ''علاقے میں جھڑپیں جاری ہیں اور شامی فورسز چھینے گئے سات میں سے چار ٹھکانوں کو واپس لینے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔تاہم اس کا سپلائی روٹ ابھی تک منقطع ہے''۔

باغیوں کے حلب شہر کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ پر قبضے کے بعد اب شامی فوج اور اس کے اتحادی حلب تک پہنچنے کے لیے قصبے خانسر اور اثریا گاؤں سے گزرنے والے صحرائی راستے کو استعمال کررہے ہیں۔

داعش اور دوسرے جنگجوؤں نے سوموار کو حلب سے مغرب میں اسدی فوج کے زیر قبضہ علاقوں کو ملانے والے اہم سپلائی روٹ کو منقطع کردیا تھا۔اگر سرکاری فورسز اس شاہراہ پر دوبارہ قبضے میں ناکام رہتی ہیں تو اس سے حلب کے ارد گرد کے علاقوں پر دوبارہ قبضے کے لیے باغیوں کے خلاف بڑی کارروائی سست روی کا شکار ہوسکتی ہے اور شہریوں کو پانی اور خوراک کی بدترین قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

رامی عبدالرحمان نے گذشتہ روز بتایا تھا کہ قفقاز اور چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے جہادیوں اور ان کے علاوہ جہادی گروپ جند الاقصیٰ نے اچانک حملے کے بعد شامی فورسز کے سپلائی روٹ کو منقطع کردیا ہے۔