.

سعودی، اماراتی شہریوں کو لبنان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے اپنے شہریوں کو منگل کے روز ایک انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ لبنان کا سفر نہ کریں۔ سعودی حکومت نے اس ملک میں موجود اپنے شہریوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ جلد سے جلد وہاں سے واپس آجائیں جبکہ متحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں پر لبنان جانے پر پابندی عاید کر دی ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ایس پی اے' نے وزارت خارجہ کا ایک بیان نقل کیا ہے۔اس میں تمام سعودی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے تحفظ کے پیش نظر لبنان کے سفر پر نہ جائیں اور لبنان میں موجود شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ انتہائی ضرورت کے علاوہ وہاں قیام سے گریز کریں۔

درایں اثناء متحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں پر لبنان جانے پر پابندی عاید کرنے کا اعلان کیا ہے اور بیروت میں اپنے سفارتی مشن کا درجہ بھی گھٹا دیا ہے۔متحدہ عرب امارات کی خارجہ اور بین الاقوامی تعاون کی وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے اپنے شہریوں کے لبنان جانے پر پابندی عاید کرنے کے علاوہ بیروت میں اپنے سفارتی عملے کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس خبر کے منظر عام سے ایک روز قبل ہی سعودی عرب نے لبنان کے لیے قریبا چار ارب ڈالرز کی فوجی امداد معطل کردی ہے اور اس کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ بیروت سعودی مملکت کی شیعہ ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران حمایت میں ناکام رہا ہے اور اس نے تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر مشتعل ایرانی مظاہرین کے حملے کی بھی مذمت نہیں کی تھی۔

سعودی عرب ماضی میں بھی لبنان میں امن وامان کی ابتر صورت حال کے پیش نظر اپنے شہریوں کے لیے انتباہ جاری کرتا رہا ہے لیکن سعودی شہریوں کے لیے نیا ہدایت نامہ ایسے حساس وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات میں سرد مہری آ چکی ہے۔

سعودی عرب نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے لیڈروں پر بھی پابندی عاید کر رکھی ہے۔ حزب اللہ کے جنگجو اور ایرانی فوجی شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغیوں کے خلاف لڑرہے ہیں جبکہ سعودی عرب اعتدال پسند باغی گروپوں کی حمایت کر رہا ہے۔

قبل ازیں بیروت میں متعیّن سعودی سفیر علی عواض العسیری نے ایک نیوز کانفرنس میں لبنان پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی ''عربیت'' کو برقرار رکھے۔انھوں نے کہا کہ ''سعودی عرب لبنان کی سلامتی اور خود مختاری کو برقرار رکھنے کے لیے چوکس ہے''۔ان کا کہنا تھا کہ لبنانی وفود کی اچانک سعودی سفارت خانے میں آمد لبنانی عوام کی ہمارے لیے محبت کی مظہر ہے اور اس سے ان کی سعودی ،لبنانی تعلقات برقرار رکھنے کی خواہش کا بھی اظہار ہوتا ہے۔