.

شامی حکومت نے جنگ بندی کی ڈیل قبول کر لی

داعش اور القاعدہ سے وابستہ گروپوں پر حملے جاری رہیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت نے امریکا اور روس کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کی ڈیل کی شرائط کو قبول کر لیا ہے۔

شامی وزارت خارجہ نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت مسلح کارروائیاں روک دے گی لیکن داعش اور القاعدہ سے وابستہ گروپوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی کوششیں جاری رہیں گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''جنگی کارروائیاں ہفتہ 27 فروری کو روکنے کی ضمانت دینے کے لیے شامی حکومت روس کے ساتھ رابطے میں رہے گی تا کہ ان علاقوں اور مسلح گروپوں کا تعیّن کیا جاسکے جو جنگ بندی کے تحت آتے ہیں''۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ شامی فورسز کو حزب اختلاف کے گروپوں کی جانب سے کسی بھی حملے کی صورت میں جواب دینے کا حق حاصل ہے۔

امریکا اور روس نے سوموار کو آیندہ ہفتے کے روز سے شام میں جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا۔تاہم اس جنگ بندی کا داعش اور القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کے خلاف فضائی حملوں پر اطلاق نہیں ہوگا اور ان دونوں گروپوں کے خلاف شام میں فضائی حملے جاری رہیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیچیدہ زمینی صورت حال کے پیش نظر اس جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد مشکل نظر آتا ہے کیونکہ بہت سے باغی گروپوں نے آپس میں اتحاد بنا رکھا ہے اور خاص طور پر شمالی شام میں باغی گروپ القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے ساتھ مل کر اسدی فورسز کے خلاف لڑرہے ہیں۔اب ان گروپوں کے ساتھ جدا جدا معاملہ کرنا ناممکن ہوگا۔

قبل ازیں شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد نے عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والی عارضی جنگ بندی کو مشروط طور پر قبول کرنے سے اتفاق کیا تھا۔حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی (ایچ این سی) نے سعودی دارالحکومت الریاض میں اپنے اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے شام میں جنگی کارروائیوں کو روکنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو قبول کر لیا ہے۔

تاہم اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی نے کہا ہے کہ ''یہ فیصلہ ان اقدامات سے مشروط ہے کہ شامی حکومت باغیوں کے زیر قبضہ اٹھارہ علاقوں کا محاصرہ ختم کردے ،قیدیوں کو رہا کرے اور فضائی اور توپ خانے سے گولہ باری بندی کردے''۔

واضح رہے کہ جنیوا میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ایچ این سی اور شامی حکومت کے درمیان بالواسطہ مذاکرات 3 فروری کو منقطع ہوگئے تھے اور شامی حزب اختلاف نے شہریوں کے خلاف روسی اور اسدی فوج کی جنگی کارروائیاں رُکنے تک بات چیت میں حصہ لینے سے انکار کردیا تھا۔