.

غربِ اردن میں گرفتار دو فلسطینیوں کے مکانات مسمار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے غربِ اردن میں دو فلسطینیوں کے مکان مسمار کردیے ہیں۔ان دونوں فلسطینیوں پر مختلف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ان کے حملوں میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے مغرب میں واقع دیہات میں ان دو فلسطینیوں کے مکانوں کو بلڈوزوروں سے ڈھایا ہے۔فوج نے کہا ہے کہ یہ دونوں فلسطینی 19 نومبر کو تل ابیب اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک بس جنکشن پر چاقو حملے اور راہ گیروں پر کار چڑھانے کے واقعے میں ملوّث تھے۔

ان میں سے ایک فلسطینی محمد الحرب پر الزام تھا کہ اس نے مغربی کنارے میں ایک یہودی بستی کے نزدیک واقع جنکشن پر فائرنگ کردی تھی اور اس کے بعد راہ گیروں پر اپنی کار چڑھا دی تھی۔اس واقعے میں ایک اسرائیلی ،ایک فلسطینی اور ایک امریکی مارا گیا تھا۔

اسی روز ریاض مسلمہ نے تل ابیب میں ایک سرکاری عمارت اور ایک کار پارک میں چاقو گھونپ پر دو اسرائیلیوں کو ہلاک کردیا تھا۔یکم اکتوبر کے بعد فلسطینیوں کے چاقو حملوں اور کاریں چڑھانے کے واقعات میں ایک دن میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔

محمد الحرب کا مکان الخلیل کے مغرب میں واقع گاؤں دیر سمیت میں تھا اور ریاض مسلمہ کا مکان درعا میں واقع تھا۔یہ دونوں افراد اس وقت گرفتار ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں یکم اکتوبر 2015ء سے جاری تشدد کے واقعات میں ستائیس اسرائیلی ،ایک امریکی اور ایک ایریٹیرین باشندہ ہلاک ہوچکا ہے۔اسرائیلی فوج کی کریک ڈاؤن کارروائیوں اور جھڑپوں میں ایک سو چھہتر فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے دباؤ کے بعد حملہ آور فلسطینیوں کے مکانوں کو سزا کے طور پر مسمار کرنے کی منظوری دی تھی۔تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو فلسطینی خاندانوں کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کے ذریعے تشدد کے خاتمے کے بجائے اس کو مہمیز ہی ملے گی۔