.

یمنی باغیوں نے بیرون ملک سے بھیجے ایک ارب ڈالر ہڑپ کر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی باغیوں نے آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد نہ صرف میں ایک نئی جنگ برپا کر رکھی ہے بلکہ اپنی غیرقانونی جنگ جاری رکھنے کے لیے قومی خزانے کی لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن کے اقتصادی اور بنک ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں نے پچھلے ایک برس میں بیرون ملک سے شہریوں کی جانب سے بھیجے گئے ایک ارب ڈالر ترسیلات زر بھی ہڑپ کر لیے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سنہ 2015ء کے اوائل میں حکومت کا تختہ الٹنے کےبعد باغیوں نے قومی خزانے کی لوٹ مار شروع کر رکھی ہے۔ بیرون ملک سے شہریوں کی جانب سے بھجوائی گئی رقوم کی بڑی مقدار لوٹ لی گئی۔ خزانہ خالی ہونے کے نتیجے میں یمنی ریال کی ڈالر کے مقابلے میں قدر بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 215 یمنی ریال ایک امریکی ڈالر کے قریب آ گیا ہے۔ اسی طرح 57 یمنی ریال ایک سعودی ریال کے مساوی ہے۔بلیک مارکیٹ میں 280 یمنی ریال ایک ڈالر کی قیمت میں فروخت ہو رہے ہیں اور سعودی ریال کے مقابلے میں 70یمنی ریال ادا کیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی شدت پسندوں نے بیرون ملک سے بھجوائی رقم اور ترسیلات زر ان کے مالکان کو ادا کرنے سے منع کر دیا ہے اوران کی رقوم باغیوں کو ادا کی جا رہی ہیں۔

یمن کے اقتصادی تجزیہ نگار احمد سعید نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرت ہوئے کہا کہ باغیوں نے اپنے زیرانتظام بنکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بیرون ملک سے شہریوں کی اپنے گھروں کو بھجوائی گئی رقوم کی ادائیگی روک دیں۔