.

ایرانی مرشد انتہا پسند بنیاد پرستوں کے وکیل بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں انتخابات کی گھڑیاں نزدیک آنے پر جمہوریہ کے مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای نے ملک میں حکومتی دھڑوں کی شدت پسندوں اور اعتدال پسندوں میں تقسیم کرنے والوں کو "دشمن" قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے شدت پسند بنیاد پرستوں کے لیے اپنی اعلانیہ حمایت کا کھلم کھلا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سابق مرشد اعلیٰ کو شدت پسند شمار کیا جاتا تھا اور "مجھے بھی" اسی صف میں شمار کیا جاتا ہے۔

علی خامنہ ای نے بدھ کے روز "نجف آباد" شہر سے آنے والے اپنے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے اپنے حامیوں اور سیاست دانوں کو خبردار کیا کہ وہ... انتخابات میں مقابلہ کرنے والوں کو دو قسموں میں تقسیم کرنے سے متعلق "دشمنوں کے حالیہ منصوبوں" سے چوکنا رہیں۔ انہوں نے اس کو "جھوٹی اور اشتعال انگیز درجہ بندی" قرار دیا۔

شدت پسندوں کی اصطلاح کی تعریف کرتے ہوئے علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ "انقلاب پر اصرار کرنے والے حزب اللہ کے پیروکاروں کو دشمن شدت پسند قرار دیتا ہے اور پانے پیروکاروں کو اعتدال پسند کا نام دیتا ہے... دشمنوں نے انقلاب کے پہلے روز سے ہی شدت پسند اور اعتدال پسند کی درجہ بندی کا سہارا لیا... ان کے نقطہ نظر کے مطابق امام (خمینی) سب سے زیادہ شدت پسند تھے اور آج مجھ ناچیز کو وہ سب سے زیادہ شدت پسندی کے خانے میں رکھتے ہیں"۔

مبصرین کے نزدیک خامنہ ای کے بیان سے ان کے اس اندیشے کا انکشاف ہوتا ہے کہ ایرانی انتخابات کو انجینئرڈ بنانے کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات ناکام ہوجائیں گے۔ اس مقصد کے لیے شوریٰ نگہبان کا سہارا لیا گیا جس نے اصلاح پسند اور اعتدال پسند امیدواروں کی ایک بڑی تعداد کو انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے نااہل قرار دیا۔

ایسے وقت میں جب کہ انتخابات کسی میچ یا کھیلوں کے مقابلے سے کم نہیں لگ رہے.. خامنہ ای کا کہنا تھا کہ "انتخابات میں برتری اور عدم برتری کا مطلب عوام میں تفرقے، درجہ بندی اور دشمنوں کا وجود نہیں ہے۔ یقینا ایران میں دو درجہ بندیوں کی تشہیر جھوٹ کے سوا کچھ نہیں"۔

یاد رہے کہ ایرانی مرشد اعلیٰ اس بات کو محسوس کررہے ہیں کہ ان کا مقام کھوکھلا ہوچکا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے اس خطاب کے ذریعے اپنے شدت پسند حامیوں پر دباؤ کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ علی خامنہ ای نے انتخابات میں اپنے اعتدال پسند اور دیگر اصلاح پسند مخاصمین کے مقابل توازن اپنے حق میں لانے کے لیے متوازن اور جچے تلے الفاظ کا سہارا لیا۔ انہوں نے اس بات کا اعلان تو کیا ہے کہ وہ شدت پسندوں میں سے ہیں تاہم اس درجہ بندی اور تقسیم کو دشمنوں سے منسوب کررہے ہیں۔

"حکومتی اداروں میں دشمنوں کی دراندازی" کو درجہ بندی کا ذمہ دار ٹھہرانے کے بیچ مرشد اعلیٰ اپنے خطاب میں پارلیمنٹ کے اس اجلاس کو نہیں بھولے جس میں اصلاح پسندوں کو غلبہ حاصل تھا اور وہ علی خامنہ ای کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔ انہوں نے کہا کہ "گزشتہ سالوں میں ایک رکن پارلیمنٹ نے مجلس شوریٰ کے ایک اعلانیہ اجلاس میں دشمنوں کی بات کو دہراتے ہوئے اسلامی نظام پر جھوٹ کا الزام عائد کیا اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ہمارا وفد موجودہ صدر کی قیادت میں نیوکلیئر مذاکرات میں شرکت کررہا تھا"۔

اصلاح پسندوں کی چیدہ شخصیات کے انتخابی دوڑ سے باہر ہوجانے کے باوجود بعض شدت پسندوں مثلا "بنیاد پرستوں کے الائنس" کے ترجمان حداد عادل جیسے لوگوں نے گزشتہ چند روز میں اس بات کی کوشش کی کہ وہ پارلیمنٹ میں اصلاح پسندوں کی اکثریت کو یاد دلا کر مرشدی اعلیٰ کی تشویش میں اضافہ کریں۔ اس کا مقصد اعتدال پسندوں کے مقابل علی خامنہ ای کو شدت پسندوں کے محاذ میں شامل کرنا ہے۔ اصلاح پسندوں کی قیادت میں مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ ہاشمی رفسنجانی، ایرانی صدر حسن روحانی اور دیگر اصلاح پسند رہ نما شامل ہیں۔

یاد رہے کہ شدت پسندوں کا کیمپ ابھی تک اصلاح پسندوں پر جیت کے وجد میں ڈوبا ہوا ہے اور اس کو کسی قسم کا حقیقی خطرہ محسوس نہیں ہورہا۔ اس کے نتیجے میں تنازع مقامی سطح پر منتقل ہوگیا اور شدت پسندوں کی فہرستوں میں بڑی حد تک اضافہ ہوگیا جب کہ ادھر اعتدال پسندوں کی جانب سے میدان میں نئے چہرے نمودار ہوئے جو روایتی اصلاح پسند رائے دہندگان کے ووٹ حاصل کرسکتے ہیں۔